🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

اللؤلؤ والمرجان میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1906)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

342. باب أجر المفطر في السفر إِذا تولى العمل
باب: سفر میں روزہ افطار کرنے کا اجر
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 683
683 صحيح حديث أَنَسٍ رضي الله عنه، قَالَ: كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَكْثَرُنَا ظِلاً الَّذِي يَسْتَظِلُّ بِكِسَائِهِ؛ وَأَمَّا الَّذِينَ صَامُوا فَلَمْ يَعْمَلُوا شَيْئًا، وَأَمَّا الَّذِينَ أَفْطَرُوا فَبَعَثُوا الرِّكَابَ وامْتَهَنُوا وَعَالَجُوا؛ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ذَهَبَ الْمُفْطِرُونَ الْيَوْمَ بِالأَجْرِ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ (ایک سفر میں) تھے، کچھ صحابہ روزے سے تھے اور کچھ نے روزہ نہیں رکھا تھا، موسم گرمی کا تھا، ہم میں زیادہ بہتر سایہ جو کوئی کرتا وہ اپنا کمبل تان لیتا، خیر جو لوگ روزے سے تھے وہ کوئی کام نہ کر سکے تھے اور جن حضرات نے روزہ نہیں رکھا تھا، تو انہوں نے ہی اونٹوں کو اٹھایا (پانی پلایا) اور روزہ داروں کی خوب خوب خدمت بھی کی اور (دوسرے تمام) کام کیے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آج اجر و ثواب کو روزہ نہ رکھنے والے لوٹ کر لے گئے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الصيام/حدیث: 683]
تخریج الحدیث: «صحیح، _x000D_ أخرجه البخاري في: 56 كتاب الجهاد والسير: 18 باب فضل الخدمة في الغزو»
وضاحت: معلوم ہوا کہ جہاد میں مجاہدین کی خدمت کرنا روزے سے زیادہ اجر رکھتا ہے۔ روزہ ایک انفرادی نیکی ہے۔ مگرمجاہدین کی خدمت پوری ملت کی خدمت ہے، اس لیے اس کو بہر حال فوقیت حاصل ہے۔(راز)

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں