🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

اللؤلؤ والمرجان میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1906)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

345. باب صوم يوم عاشوراء
باب: عاشورہ کے روزے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 688
688 صحيح حديث عَائِشَةَ، أَنَّ قُرَيْشًا كَانَتْ تَصُومُ يَوْمَ عَاشُورَاءَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، ثُمَّ أَمَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِصِيَامِهِ حَتَّى فُرِضَ رَمَضَانُ، وَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ شَاءَ فَلْيَصُمْهُ وَمَنْ شَاءَ أَفْطَرَ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ قریش زمانہ جاہلیت میں عاشوراء کا روزہ رکھتے تھے، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اس دن روزہ کا حکم دیا یہاں تک کہ رمضان کے روزے فرض ہو گئے، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ”جس کا جی چاہے یوم عاشوراء کا روزہ رکھے اور جس کا جی چاہے نہ رکھے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الصيام/حدیث: 688]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 30 كتاب الصوم: 1 باب وجوب صوم رمضان»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 689
689 صحيح حديث ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: كَانَ عَاشُورَاءُ يَصُومُهُ أَهْلُ الْجَاهِلِيَّةِ، فَلَمَّا نَزَلَ رَمَضَانُ، قَالَ: مَنْ شَاءَ صَامَهُ وَمَنْ شَاءَ لَمْ يَصُمْهُ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ جاہلیت میں عاشوراء کے دن ہم روزہ رکھتے تھے لیکن جب رمضان کے روزے نازل ہو گئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس کا جی چاہے عاشوراء کا روزہ رکھے اور جس کا جی چاہے نہ رکھے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الصيام/حدیث: 689]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 65 كتاب التفسير: 2 سورة البقرة: 24 باب (يا أيها الذين آمنوا كتب عليكم الصيام»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 690
690 صحيح حديث عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ دَخَلَ عَلَيْهِ الأَشْعَثُ وَهُوَ يَطْعَمُ، فَقَالَ: الْيَوْمُ عَاشُورَاء، فَقَالَ: كَانَ يُصَامُ قَبْلَ أَنْ يَنْزِلَ رَمَضَانُ، فَلَمَّا نَزَلَ رَمَضَانُ تُرِكَ، فَادْنُ فَكُلْ
سیدنا اشعث رحمہ اللہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے یہاں آئے، وہ اس وقت کھانا کھا رہے تھے، اشعث نے کہا کہ آج تو عاشوراء کا دن ہے، سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا کہ ان دنوں میں عاشوراء کا روزہ رمضان کے روزوں کے نازل ہونے سے پہلے رکھا جاتا تھا، لیکن جب رمضان کے روزے کا حکم نازل ہوا تو یہ روزہ چھوڑ دیا گیا، آؤ تم بھی کھانے میں شریک ہو جاؤ۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الصيام/حدیث: 690]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 65 كتاب التفسير: 2 سورة البقرة 24: باب (يا أيها الذين آمنوا كتب عليكم الصيام»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 691
691 صحيح حديث مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَحْمنِ، أَنَّهُ سَمِعَ مُعَاوِيَةَ ابْنَ أَبِي سُفْيَانَ، يَوْمَ عَاشُورَاءَ، عَامَ حَجَّ، عَلَى الْمِنْبَرِ، يَقُولُ: يَا أَهْلَ الْمَدِينَة أَيْنَ عُلَمَاؤُكُمْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: هذَا يَوْمُ عَاشُورَاءَ، وَلَمْ يُكْتَبْ عَلَيْكُمْ صِيَامُهُ، وَأَنَا صَائمٌ، فَمَنْ شَاءَ فَلْيَصُمْ وَمَنْ شَاءَ فَلْيُفْطِرْ
حمید بن عبدالرحمن بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیدنا معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ سے حج کے موقع پر عاشوراء کے دن منبر پر سنا، انہوں نے کہا: اے اہل مدینہ! تمہارے علماء کدھر گئے؟ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا: ”یہ عاشوراء کا دن ہے، اس کا روزہ تم پر فرض نہیں ہے، لیکن میں روزے سے ہوں، اب جس کا جی چاہے روزہ رکھے (اور میری سنت پر عمل کرے) اور جس کا جی چاہے نہ رکھے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الصيام/حدیث: 691]
تخریج الحدیث: «صحیح، _x000D_ أخرجه البخاري في: 30 كتاب الصوم: 69 باب صيام يوم عاشوراء»
وضاحت: شاید سیّدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو یہ خبر پہنچی ہو کہ مدینہ والے عاشوراء کا روزہ مکروہ جانتے ہیں یا اس کا اہتمام نہیں کرتے یا اس کو فرض سمجھتے ہیں تو آپ نے منبر پر یہ تقریر کی۔(راز)

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 692
692 صحيح حديث ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ المَدِينَة، فَرَأَى الْيَهُودَ تصُومُ يَوْمَ عَاشُورَاءَ، فَقَالَ: مَا هذَا قَالُوا: هذَا يَوْمٌ صَالِحٌ، هذَا يَوْمُ نَجَّى اللهُ بَنِي إِسْرَائِيلَ مِنْ عَدُوِّهِمْ فَصَامَهُ مُوسى، قَالَ: فَأَنَا أَحَقُّ بِمُوسى مِنْكُمْ فَصَامَهُ وَأَمَرَ بِصِيَامِهِ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ میں تشریف لائے (دوسرے سال)، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہودیوں کو دیکھا کہ وہ عاشوراء کے دن روزہ رکھتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے اس کا سبب معلوم فرمایا تو انہوں نے بتایا کہ یہ ایک اچھا دن ہے، اسی دن اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو ان کے دشمن (فرعون) سے نجات دلائی تھی، اس لیے موسیٰ علیہ السلام نے اس دن کا روزہ رکھا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر موسیٰ علیہ السلام کے (شریک مسرت ہونے میں) ہم تم سے زیادہ مستحق ہیں“، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس دن روزہ رکھا اور صحابہ رضی اللہ عنہم کو بھی اس کا حکم دیا۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الصيام/حدیث: 692]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: كتاب الصوم: 69 باب صيام يوم عاشوراء»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 693
693 صحيح حديث أَبِي مُوسى رضي الله عنه، قَالَ: كَانَ يَوْمُ عَاشُورَاءَ تَعُدُّهُ الْيَهُودُ عِيدًا قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فَصُومُوهُ أَنْتُمْ
سیدنا ابو موسی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ عاشوراء کے دن کو یہودی عید کا دن سمجھتے تھے اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم بھی اس دن روزہ رکھا کرو۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الصيام/حدیث: 693]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 30 كتاب الصوم: 69 باب صيام يوم عاشوراء»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 694
694 صحيح حديث ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: مَا رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَحَرَّى صِيَامَ يَوْم فَضَّلَهُ عَلَى غَيْرِهِ إِلاَّ هذَا الْيَوْمَ، يَوْمَ عَاشُورَاءَ؛ وَهذَا الشَّهْرَ، يَعْنِي شَهْرَ رَمَضَانَ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو سوائے عاشوراء کے دن کے اور اس رمضان کے مہینے کے اور کسی دن کو دوسرے دنوں سے افضل جان کر خاص طور پر قصد کر کے روزہ رکھتے نہیں دیکھا۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الصيام/حدیث: 694]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 30 كتاب الصوم: 69 باب صيام يوم عاشوراء»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں