اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
345. باب صوم يوم عاشوراء
باب: عاشورہ کے روزے کا بیان
حدیث نمبر: 691
691 صحيح حديث مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَحْمنِ، أَنَّهُ سَمِعَ مُعَاوِيَةَ ابْنَ أَبِي سُفْيَانَ، يَوْمَ عَاشُورَاءَ، عَامَ حَجَّ، عَلَى الْمِنْبَرِ، يَقُولُ: يَا أَهْلَ الْمَدِينَة أَيْنَ عُلَمَاؤُكُمْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: هذَا يَوْمُ عَاشُورَاءَ، وَلَمْ يُكْتَبْ عَلَيْكُمْ صِيَامُهُ، وَأَنَا صَائمٌ، فَمَنْ شَاءَ فَلْيَصُمْ وَمَنْ شَاءَ فَلْيُفْطِرْ
حمید بن عبدالرحمن بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیدنا معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ سے حج کے موقع پر عاشوراء کے دن منبر پر سنا، انہوں نے کہا: اے اہل مدینہ! تمہارے علماء کدھر گئے؟ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا: ”یہ عاشوراء کا دن ہے، اس کا روزہ تم پر فرض نہیں ہے، لیکن میں روزے سے ہوں، اب جس کا جی چاہے روزہ رکھے (اور میری سنت پر عمل کرے) اور جس کا جی چاہے نہ رکھے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الصيام/حدیث: 691]
تخریج الحدیث: «صحیح، _x000D_ أخرجه البخاري في: 30 كتاب الصوم: 69 باب صيام يوم عاشوراء»
وضاحت: شاید سیّدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو یہ خبر پہنچی ہو کہ مدینہ والے عاشوراء کا روزہ مکروہ جانتے ہیں یا اس کا اہتمام نہیں کرتے یا اس کو فرض سمجھتے ہیں تو آپ نے منبر پر یہ تقریر کی۔(راز)
الحكم على الحديث:
«صحیح»
Al-Lulu wal-Marjan Hadith 691 in Urdu