اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
356. باب صيام النبي صلی اللہ علیہ وسلم في غير رمضان واستحباب أن لا يخلى شهرا عن صوم
باب: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے رمضان کے علاوہ روزوں کا بیان اور یہ کہ کوئی مہینہ روزوں سے خالی نہ چھوڑنا چاہیے
حدیث نمبر: 711
711 صحيح حديث عَائِشَةَ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ حَتَّى نَقُولَ لاَ يُفْطِرُ، وَيُفْطِرُ حَتَّى نَقُولَ لاَ يَصُومُ، فَمَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَكْمَلَ صِيَامَ شَهْرٍ إِلاَّ رَمَضَانَ، وَمَا رَأَيْتُه أَكْثَرَ صِيَامًا مِنْهُ فِي شَعْبَانَ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نفل روزہ رکھنے لگتے تو ہم (آپس میں) کہتے کہ اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزہ رکھنا چھوڑیں گے ہی نہیں، اور جب روزہ چھوڑ دیتے تو ہم کہتے کہ اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزہ رکھیں گے ہی نہیں، میں نے رمضان کو چھوڑ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کبھی پورے مہینے نفلی روزے رکھتے نہیں دیکھا اور جتنے روزے آپ صلی اللہ علیہ وسلم شعبان میں رکھتے، میں نے کسی مہینے میں اس سے زیادہ روزے رکھتے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں دیکھا۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الصيام/حدیث: 711]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 30 كتاب الصوم: 52 باب صوم شعبان»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
حدیث نمبر: 712
712 صحيح حديث عَائِشَةَ، قَالَتْ: لَمْ يَكُنِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ شَهْرًا أَكْثَرَ مِنْ شَعْبَانَ، فَإِنَّهُ كَانَ يَصُومُ شَعْبَانَ كُلَّهُ، وَكَانَ يَقُولُ: خُذُوا مِنَ الْعَمَلِ مَا تُطِيقُونَ فَإِنَّ اللهَ لاَ يَمَلُّ حَتَّى تَمَلُّوا وَأَحَبُّ الصَّلاَةِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا دُووِمَ عَلَيْهِ وَإِنْ قَلَّتْ، وَكَانَ إِذَا صَلَّى صَلاَةً دَاوَمَ عَلَيْهَا
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شعبان سے زیادہ کسی مہینہ میں روزے نہیں رکھتے تھے، شعبان کے پورے دنوں میں آپ روزہ سے رہتے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے: ”عمل وہی اختیار کرو جس کی تم میں طاقت ہو، کیونکہ اللہ تعالیٰ (ثواب دینے سے) نہیں تھکتا، تم خود ہی اکتا جاؤ گے۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس نماز کو سب سے زیادہ پسند فرماتے جس پر ہمیشگی اختیار کی جائے خواہ کم ہی کیوں نہ ہو، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب کوئی نماز شروع کرتے تو اسے ہمیشہ پڑھتے تھے۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الصيام/حدیث: 712]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 30 كتاب الصوم: 52 باب صوم شعبان»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
حدیث نمبر: 713
713 صحيح حديث ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: مَا صَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَهْرًا كَامِلاً قَطُّ غَيْرَ رَمَضَانَ، وَيَصُومُ حَتَّى يَقُولَ الْقَائِلُ، لاَ وَاللهِ لاَ يُفْطِرُ؛ وَيُفْطِرُ حَتَّى يَقُولَ الْقَائِلُ، لاَ وَاللهِ لاَ يَصُومُ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رمضان کے سوا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی پورے مہینے کا روزہ نہیں رکھا، آپ نفل روزہ رکھنے لگتے تو دیکھنے والا کہہ اٹھتا کہ بخدا اب آپ بے روزہ نہیں رہیں گے اور اسی طرح جب نفل روزہ چھوڑ دیتے تو کہنے والا کہتا: قسم اللہ کی اب آپ روزہ نہیں رکھیں گے۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الصيام/حدیث: 713]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 30 كتاب الصوم: 53 باب ما يذكر في صوم النبي صلی اللہ علیہ وسلم وإفطاره»
الحكم على الحديث:
«صحیح»