اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
357. باب النهى عن صوم الدهر لمن تضرر به، أو فوت به حقا أو لم يفطر العيدين والتشريق، وبيان تفضيل صوم يوم وإفطار يوم
باب: صوم دھر کی ممانعت اور صوم داؤدی کی فضیلت (جسے تکلیف ہو یا حقوق کے ضائع ہونے کا اندیشہ ہو یا جو عیدین اور ایام تشریق میں افطار نہ کرے اس کے لیے صوم دھر ممنوع ہیں)
حدیث نمبر: 714
714 صحيح حديث عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرو، قَالَ: أُخْبِرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنِّي أَقُولُ، وَاللهِ لأَصُومَنَّ النَّهَارَ وَلأَقُومَنَّ اللَّيْلَ مَا عِشْتُ؛ فَقُلْتُ لَهُ: قَدْ قُلْتُهُ، بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي قَالَ: فَإِنَّكَ لاَ تَسْتَطِيع ذلِكَ، فَصُمْ وَأَفْطِرْ، وَقُمْ وَنَمْ، وَصُمْ مِنَ الشَّهْرِ ثَلاَثَةَ أَيَّامٍ، فَإِنَّ الْحَسَنَةَ بِعَشْرِ أَمْثَالِهَا، وَذلِكَ مِثْلُ صِيَامِ الدَّهْرِ قُلْتُ: إِنِّي أُطِيقُ أَفْضَلَ مِنْ ذلِكَ قَالَ: فَصُمْ يَوْمًا وَأَفْطِرْ يَوْمَيْنِ قُلْتُ: إِنِّي أُطِيقُ أَفْضَلَ مِنْ ذلِكَ قَالَ: فَصُمْ يَوْمًا وَأَفْطِرْ يَوْمًا، فَذَلِكَ صِيَامُ دَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلاَمُ، وَهُوَ أَفْضَلُ الصِّيَامُ فَقُلْتُ: إِنِّي أُطِيقُ أَفْضَلَ مِنْ ذلِكَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لاَ أَفْضَلَ مِنْ ذلِكَ
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک میری یہ بات پہنچائی گئی کہ: خدا کی قسم! زندگی بھر میں دن میں تو روزے رکھوں گا اور ساری رات عبادت کروں گا۔ میں نے (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے) عرض کی: میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں، ہاں میں نے یہ کہا ہے۔ آپ نے فرمایا: ”لیکن تیرے اندر اس کی طاقت نہیں، اس لیے روزہ بھی رکھ اور بے روزہ بھی رہ، عبادت بھی کر اور سو بھی اور مہینے میں تین دن کے روزے رکھا کر، نیکیوں کا بدلہ دس گنا ہے، اس طرح یہ ساری عمر کا روزہ ہو جائے گا۔“ میں نے کہا کہ میں اس سے بھی زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں۔ آپ نے فرمایا: ”پھر ایک دن روزہ رکھا کر اور دو دن کے لیے روزے چھوڑ دیا کر۔“ میں نے پھر کہا کہ میں اس سے بھی زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں۔ آپ نے فرمایا: ”اچھا ایک دن روزہ رکھ اور ایک دن بے روزہ رہ کہ داؤد علیہ السلام کا روزہ ایسا ہی تھا اور روزہ کا یہ سب سے افضل طریقہ ہے۔“ میں نے اب بھی وہی کہا کہ مجھے اس سے بھی زیادہ کی طاقت ہے، لیکن اس مرتبہ آپ نے فرمایا: ”اس سے افضل کوئی روزہ نہیں ہے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الصيام/حدیث: 714]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 30 كتاب الصوم: 56 باب صوم الدهر»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
حدیث نمبر: 715
715 صحيح حديث عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرو بْنِ الْعَاصِ، قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا عَبْدَ اللهِ أَلَمْ أُخْبَرْ أَنَّكَ تَصُومُ النَّهَارَ وَتَقُومُ اللَّيْلَ فَقُلْتُ: بَلَى يَا رَسُولَ اللهِ قَالَ: فَلاَ تَفْعَلْ، صُمْ وَأَفْطِرْ، وَقُمْ وَنَمْ، فَإِنَّ لِجَسَدِكَ عَلَيْكَ حَقًّا، وَإِنَّ لِعَيْنِكَ عَلَيْكَ حَقًّا، وَإِنَّ لِزَوْجِكَ عَلَيْكَ حَقًّا، وَإِنَّ لِزَوْرِكَ عَلَيْكَ حَقًّا، وَإِنَّ بِحَسْبِكَ أَنْ تَصُومَ كُلَّ شَهْرٍ ثَلاَثَةَ أَيَّامٍ، فَإِنَّ لَكَ بِكُلِّ حَسَنَةٍ عَشْرَ أَمْثَالِهَا، فَإِنَّ ذلِكَ صِيَامُ الدَّهْرِ كُلِّهِ فَشَدَّدْتُ فَشُدِّدَ عَلَيَّ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنِّي أَجِدُ قُوَّةً قَالَ: فَصُمْ صِيَامَ نَبِيِّ اللهِ دَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلاَمُ، وَلاَ تَزِدْ عَلَيْهِ قُلْتُ: وَمَا كَانَ صِيَامُ نَبِيِّ اللهِ دَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلاَمُ قَالَ: نِصْفُ الدَّهْرِ فَكَانَ عَبْدُ اللهِ يَقُولُ بَعْدَمَا كَبِرَ: يَا لَيْتَنِي قَبِلْتُ رُخْصَةَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عبداللہ! کیا یہ خبر صحیح ہے کہ تم دن میں تو روزہ رکھتے ہو اور ساری رات نماز پڑھتے ہو؟“ میں نے عرض کی: صحیح ہے یا رسول اللہ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایسا نہ کر، روزہ بھی رکھ اور بے روزہ کے بھی رہ، نماز بھی پڑھ اور سوؤ بھی، کیونکہ تمہارے جسم کا بھی تم پر حق ہے، تمہاری آنکھوں کا بھی تم پر حق ہے، تمہاری بیوی کا بھی تم پر حق ہے اور تم سے ملاقات کرنے والوں کا بھی تم پر حق ہے، بس یہی کافی ہے کہ ہر مہینہ میں تین دن روزہ رکھ لیا کرو، کیونکہ ہر نیکی کا بدلہ دس گنا ملے گا اور اس طرح یہ ساری عمر کا روزہ ہو جائے گا۔“ لیکن میں نے اپنے پر سختی چاہی تو مجھ پر سختی کر دی گئی، میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! میں اپنے میں قوت پاتا ہوں، اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر اللہ کے نبی داؤد علیہ السلام کا روزہ رکھ اور اس سے آگے نہ بڑھ۔“ میں نے پوچھا: اللہ کے نبی داؤد علیہ السلام کا روزہ کیا تھا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک دن روزہ رکھتے اور ایک دن بے روزہ کے رہا کرتے تھے۔“ بعد میں جب ضعیف ہو گئے تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کہا کرتے تھے: کاش میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دی ہوئی رخصت مان لیتا۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الصيام/حدیث: 715]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 30 كتاب الصوم: 55 باب حق الجسم في الصوم»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
حدیث نمبر: 716
716 صحيح حديث عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرو، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اقْرَإِ الْقرْآنَ فِي شَهْرٍ قُلْتُ: إِنِّي أَجِدُ قُوَّةً حَتَّى قَالَ: فَاقْرَأْهُ فِي سَبْعٍ وَلاَ تَزِدْ عَلَى ذَلِكَ
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”ہر مہینے میں قرآن کا ایک ختم کیا کرو۔“ میں نے عرض کیا: مجھ کو تو زیادہ پڑھنے کی طاقت ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اچھا سات راتوں میں ختم کیا کر، اس سے زیادہ مت پڑھ۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الصيام/حدیث: 716]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 66 كتاب فضائل القرآن: 34 باب في كم يقرأ القرآن»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
حدیث نمبر: 717
717 صحيح حديث عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا عَبْدَ اللهِ لاَ تَكُنْ مِثْلَ فُلاَنٍ، كَانَ يَقُومُ اللَّيْلَ فَتَرَكَ قِيَامَ اللَّيْلِ
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فرمایا: ”اے عبداللہ! فلاں کی طرح نہ ہو جانا، وہ رات میں عبادت کیا کرتا تھا پھر چھوڑ دی۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الصيام/حدیث: 717]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 19 كتاب التهجد: 19 باب ما يكره من ترك قيام الليل لمن كان يقومه»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
حدیث نمبر: 718
718 صحيح حديث عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: بَلَغَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنِّي أَسْرُدُ الصَّوْمَ وَأُصَلِّي اللَّيْلَ، فَإِمَّا أَرْسَلَ إِلَيَّ وَإِمَّا لَقِيتُهُ، فَقَالَ: أَلَمْ أُخْبَرْ أَنَّكَ تَصُومُ وَلاَ تُفْطِرُ وَتُصَلِّي؛ فَصُمْ وَأَفْطِرْ وَقُمْ وَنَمْ، فَإِنَّ لِعَيْنِكَ عَلَيْكَ حَظًّا، وَإِنَّ لِنَفْسِكَ وَأَهْلِكَ عَلَيْكَ حَظًّا قَالَ: إِنِّي لأَقْوَى لِذلِكَ قَالَ: فَصُمْ صِيَامَ دَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلاَمُ قَالَ: وَكَيْفَ [ص:23] قَالَ: كَانَ يَصُومُ يَوْمًا وَيُفْطِرُ يَوْمًا، وَلاَ يَفِرُّ إِذَا لاَقَى قَالَ: مَنْ لِي بِهذِهِ، يَا نَبِيَّ اللهِ قَالَ عَطَاءٌ (أَحَد الرُّوَاة) : لاَ أَدْرِي كَيْفَ ذَكَرَ صِيَامَ الأَبَدِ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لاَ صَامَ مَنْ صَامَ الأَبَدَ مَرَّتَيْنِ
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم ہوا کہ میں مسلسل روزے رکھتا ہوں اور ساری رات عبادت کرتا ہوں، اب یا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی کو میرے پاس بھیجا یا خود میں نے آپ سے ملاقات کی، آپ نے دریافت فرمایا: ”کیا یہ خبر صحیح ہے کہ تو متواتر روزے رکھتا ہے اور ایک بھی نہیں چھوڑتا اور (رات بھر) نماز پڑھتا رہتا ہے؟ روزہ بھی رکھ اور بے روزہ کے بھی رہ، عبادت بھی کر اور سو بھی، کیونکہ تیری آنکھ کا بھی تجھ پر حق ہے، تیری جان کا بھی تجھ پر حق ہے اور تیری بیوی کا بھی تجھ پر حق ہے۔“ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا: مجھ میں اس سے زیادہ کی طاقت ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر داؤد علیہ السلام کی طرح روزہ رکھا کر۔“ انہوں نے کہا: اور وہ کس طرح؟ فرمایا: ”داؤد علیہ السلام ایک دن روزہ رکھتے تھے اور ایک دن کا روزہ چھوڑ دیا کرتے تھے، جب دشمن سے مقابلہ ہوتا تو پیٹھ نہیں پھیرتے تھے۔“ اس پر سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے عرض کی: اے اللہ کے نبی! میرے لیے یہ کیسے ممکن ہے کہ میں پیٹھ پھیر جاؤں؟ سیدنا عطا (راویِ حدیث) نے کہا کہ مجھے یاد نہیں (اس حدیث میں) صومِ دہر کا کس طرح ذکر ہوا (البتہ انہیں اتنا یاد تھا کہ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو صومِ دہر رکھتا ہے اس کا روزہ ہی نہیں“، دو مرتبہ (آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی فرمایا)۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الصيام/حدیث: 718]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 30 كتاب الصوم: 57 باب حق الأهل في الصوم»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
حدیث نمبر: 719
719 صحيح حديث عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، قَالَ: قَالَ لِي النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّكَ لَتَصُومُ الدَّهْرَ وَتَقُومُ اللَّيْلَ فَقُلْتُ: نَعَمْ قَالَ: إِنَّكَ إِذَا فَعَلْتَ ذَلِكَ، هَجَمَتْ لَهُ الْعَيْنُ، وَنَفِهَتْ لَهُ النَّفْسُ، لاَ صَامَ مَنْ صَامَ الدَّهْرَ، صَوْمُ ثَلاَثَةِ أَيَّامِ صَوْمُ الدَّهْرِ كُلِّهِ قُلْتُ: فَإِنِّي أُطِيقُ أَكْثَرَ مِنْ ذلِكَ قَالَ: فَصُمْ صَوْمَ دَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلاَمُ، كَانَ يَصُومُ يَوْمًا وَيُفْطِرُ يَوْمًا، وَلاَ يَفِرُّ إِذَا لاَقَى
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تو متواتر روزے رکھتا ہے اور رات بھر عبادت کرتا ہے؟“ میں نے ہاں میں جواب دیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تو یونہی کرتا رہا تو آنکھیں دھنس جائیں گی اور تو بے حد کمزور ہو جائے گا، یہ کوئی روزہ نہیں کہ کوئی زندگی بھر (بلاناغہ ہر روز) روزہ رکھے، تین دن کا (ہر مہینہ میں) روزہ پوری زندگی کے روزے کے برابر ہے۔“ میں نے اس پر کہا کہ مجھے اس سے بھی زیادہ کی طاقت ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر داؤد علیہ السلام کا روزہ رکھا کر، آپ ایک دن روزہ رکھتے تھے اور ایک دن روزہ چھوڑ دیتے تھے اور جب دشمن کا سامنا ہوتا تو پیٹھ نہیں دکھلایا کرتے تھے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الصيام/حدیث: 719]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 30 كتاب الصوم: 59 باب صوم داود عليه السلام»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
حدیث نمبر: 720
720 صحيح حديث عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ لَهُ: أَحَبُّ الصَّلاَةِ إِلَى اللهِ صَلاَةُ دَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلاَمُ، وَأَحَبُّ الصِّيَامِ إِلَى اللهِ صِيَامُ دَاوُدَ، وَكَانَ يَنَامُ نِصْفَ اللَّيْلِ وَيَقُومُ ثُلُثَهُ وَيَنَامُ سُدُسَهُ، وَيَصُومُ يَوْمًا، وَيُفْطِرُ يَوْمًا
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”سب نمازوں میں اللہ تعالیٰ کے نزدیک پسندیدہ نماز داؤد علیہ السلام کی نماز ہے اور روزوں میں بھی داؤد علیہ السلام ہی کا روزہ؛ آپ آدھی رات تک سوتے، اس کے بعد تہائی رات نماز پڑھنے میں گزارتے، پھر رات کے چھٹے حصے میں بھی سو جاتے، اسی طرح آپ ایک دن روزہ رکھتے اور ایک دن افطار کرتے تھے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الصيام/حدیث: 720]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 19 كتاب التهجد: 7 باب من نام عند السحر»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
حدیث نمبر: 721
721 صحيح حديث عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو، حَدَّثَ: أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذُكِرَ لَهُ صَوْمِي، فَدَخَلَ عَلَيَّ، فَأَلْقَيْتُ لَهُ وِسَادَةً مِنْ أَدَمٍ، حَشْوُهَا لِيفٌ، فَجَلَسَ عَلَى الأَرْضِ، وَصَارَتِ الْوِسَادَةُ بَيْنِي وَبَيْنَهُ؛ فَقَالَ: أَمَا يَكْفِيكَ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ ثَلاَثَةُ أَيَّامٍ قَالَ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ قَالَ: خَمْسًا قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ قَالَ: سَبْعًا قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ قَالَ: تِسْعًا قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ قَالَ: إِحْدَى عَشْرَةَ ثُمَّ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لاَ صَوْمَ فَوْقَ صَوْمِ دَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلاَمُ، شَطرَ الدَّهْرِ، صُمْ يَوْمًا وَأَفْطِرْ يَوْمًا
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو میرے روزے کے متعلق خبر ہو گئی (کہ میں مسلسل روزے رکھتا ہوں)، آپ میرے یہاں تشریف لائے اور میں نے ایک گدّا آپ کے لیے بچھا دیا جس میں کھجور کی چھال بھری ہوئی تھی، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم زمین پر بیٹھ گئے اور وہ تکیہ میرے اور آپ کے درمیان ہو گیا، آپ نے فرمایا: ”کیا تمہارے لیے ہر مہینہ میں تین دن کے روزے کافی نہیں ہیں؟“ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! (کچھ اور بڑھا دیجیے) آپ نے فرمایا: ”اچھا پانچ دن کے روزے (رکھ لے)۔“ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! کچھ اور، آپ نے فرمایا: ”چلو چھ دن۔“ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! (کچھ اور بڑھائیے مجھ میں اس سے بھی زیادہ کی طاقت ہے) آپ نے فرمایا: ”اچھا نو دن۔“ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! کچھ اور، فرمایا: ”اچھا گیارہ دن۔“ آخر آپ نے فرمایا: ”داؤد علیہ السلام کے روزے کے طریقے کے سوا اور کوئی طریقہ (شریعت میں) جائز نہیں، یعنی زندگی کے آدھے دنوں میں ایک دن کا روزہ رکھ اور ایک دن کا روزہ چھوڑ دیا کرے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الصيام/حدیث: 721]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 30 كتاب الصوم: 59 باب صوم داود عليه السلام»
الحكم على الحديث:
«صحیح»