اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
373. باب جواز غسل المحرم بدنه ورأسه
باب: محرم کے لیے بدن اور سر دھونا جائز ہے
حدیث نمبر: 752
752 صحيح حديث أَبِي أَيُّوبَ الأَنْصَارِيِّ عَنْ عَبْدِ اللهِ ابْنِ حُنَيْنٍ، قَالَ: إِنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ الْعَبَّاسِ وَالْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَةَ اخْتَلَفَا بِالأَبْوَاءِ؛ فَقَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبَّاسٍ: يَغْسِلُ الْمُحْرِمُ رَأْسَهُ؛ وَقَالَ الْمِسْوَرُ: لاَ يَغْسِلُ الْمُحْرِمُ رَأْسَهُ؛ فَأَرْسَلَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ الْعَبَّاسِ إِلَى أَبِي أَيُّوبَ الأَنْصَارِيِّ فَوَجَدْتُهُ يَغْتَسِلُ بَيْنَ الْقَرْنَيْنِ، وَهُوَ يُسْتَرُ بِثَوْبٍ، فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ، فَقَالَ: مَنْ هذَا فَقُلْتُ: أَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ حُنَيْنٍ، أَرْسَلَنِي إِلَيْكَ عَبْدُ اللهِ بْنُ الْعَبَّاسِ أَسْأَلُكَ كَيْفَ كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَغْسِلُ رَأْسَهُ وَهُوَ مُحْرِمٌ فَوَضَعَ أَبُو أَيُّوبَ يَدَهُ عَلَى الثَّوْبِ، فَطَأْطَأَهُ حَتَّى بَدَا لِي رَأْسُهُ، ثُمَّ قَالَ لإِنْسَانٍ يَصُبُّ عَلَيْهِ: اصْبُبْ؛ فَصَبَّ عَلَى رَأْسِهِ، ثُمَّ حَرَّكَ رَأْسَهُ بِيَدَيْهِ، فَأَقْبَلَ بِهِمَا وَأَدْبَرَ؛ وَقَالَ: هكَذَا رَأَيْتُهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْعَلُ
عبداللہ بن حنین بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عباس اور سیدنا مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہما کا مقام ابواء میں (ایک مسئلہ پر) اختلاف ہوا، سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما تو یہ کہتے تھے کہ محرم اپنا سر دھو سکتا ہے لیکن سیدنا مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ کا کہنا تھا کہ محرم سر نہ دھوئے، پھر سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے مجھے سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کے یہاں (مسئلہ پوچھنے کے لیے) بھیجا، میں جب ان کی خدمت میں پہنچا تو وہ کنویں کی دو لکڑیوں کے بیچ میں غسل کر رہے تھے، ایک کپڑے سے انہوں نے پردہ کر رکھا تھا، میں نے پہنچ کر سلام کیا تو انہوں نے دریافت فرمایا کہ کون ہو؟ میں نے عرض کی کہ میں عبداللہ بن حنین ہوں، آپ کی خدمت میں مجھے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بھیجا ہے، دریافت کرنے کے لیے کہ احرام کی حالت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سر مبارک کس طرح دھوتے تھے؟ یہ سن کر انہوں نے کپڑے پر (جس سے پردہ تھا) ہاتھ رکھ کر اسے نیچے کیا، اب آپ کا سر دکھائی دے رہا تھا، جو شخص ان کے بدن پر پانی ڈال رہا تھا اس سے انہوں نے پانی ڈالنے کے لیے کہا، اس نے ان کے سر پر پانی ڈالا، پھر انہوں نے اپنے سر کو دونوں ہاتھوں سے ہلایا اور دونوں ہاتھ آگے لے گئے اور پھر پیچھے لائے، فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو (احرام کی حالت) میں اسی طرح کرتے دیکھا تھا۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الحج/حدیث: 752]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 28 كتاب جزاء الصيد: 14 باب الاغتسال للمحرم»
الحكم على الحديث:
«صحیح»