اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
374. باب ما يفعل المحرم إِذا مات
باب: محرم مر جائے تو کیا کریں
حدیث نمبر: 753
753 صحيح حديث ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: بَيْنَمَا رَجُلٌ وَاقِفٌ بِعَرَفَةَ، إِذْ وَقَعَ عَنْ رَاحِلَتِهِ فَوَقَصَتْهُ، أَوْ قَالَ، فَأَوْقَصَتْهُ؛ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اغْسِلُوهُ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ، وَكَفِّنُوهُ فِي ثَوْبَيْنِ وَلاَ تُحَنِّطُوهُ، وَلاَ تُخَمِّرُوا رَأْسَهُ، فَإِنَّهُ يُبْعَثُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مُلَبِّيًا
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ ایک شخص میدانِ عرفہ میں (احرام باندھے ہوئے) کھڑا ہوا تھا کہ اپنی سواری سے گر پڑا اور سواری نے انہیں کچل دیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے فرمایا کہ ”پانی اور بیری کے پتوں سے غسل دے کر دو کپڑوں میں انہیں کفن دو“ اور یہ بھی ہدایت فرمائی کہ ”انہیں خوشبو نہ لگاؤ اور نہ ان کا سر چھپاؤ کیونکہ یہ قیامت کے دن «لَبَّيْكَ» ”لبیک“ کہتا ہوا اٹھے گا۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الحج/حدیث: 753]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 23 كتاب الجنائز: 20 باب الكفن في ثوبين»
الحكم على الحديث:
«صحیح»