اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
379. باب جواز التمتع
باب: تمتع کے جائز ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 767
767 صحيح حديث عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، قَالَ: أُنْزِلَتْ آيَةُ الْمُتْعَةِ فِي كِتَابِ اللهِ، فَفَعَلْنَاهَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَمْ يُنْزَلْ قُرْآنٌ يُحَرِّمُهُ، وَلَمْ يَنْهَ عَنْهَا حَتَّى مَاتَ قَالَ رَجُلٌ بِرَأْيِهِ مَا شَاءَ
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ (حج میں) تمتع کا حکم قرآن میں نازل ہوا اور ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تمتع کے ساتھ (حج) کیا، پھر اس کے بعد قرآن نے اس سے نہیں روکا اور نہ اس سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے روکا یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہو گئی (لہٰذا تمتع اب بھی جائز ہے)، یہ تو ایک صاحب نے اپنی رائے سے جو چاہا کہہ دیا ہے۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الحج/حدیث: 767]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 65 كتاب التفسير: 2 سورة البقرة 33 باب (فمن تمتع بالعمرة إلى الحج»
وضاحت: ایک صاحب سے مراد سیّدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ ہیں جن کی رائے تمتع کے خلاف تھی۔ سیّدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ نے سیّدنا عمر رضی اللہ عنہ کے اس خیال کو ان کی رائے قرار دیا اور قرآن و حدیث کے خلاف اسے تسلیم نہیں کیا۔(راز)
الحكم على الحديث:
«صحیح»