🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

اللؤلؤ والمرجان میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1906)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

386. باب جواز العمرة في أشهر الحج
باب: حج کے مہینوں میں عمرہ کے جائز ہونے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 777
777 صحيح حديث ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَصْحَابُهُ لِصُبْحِ رَابِعَةٍ يُلَبُّونَ بِالْحَجِّ، فَأَمَرَهُمْ أَنْ يَجْعَلُوهَا عُمْرَةً، إِلاَّ مَنْ مَعَهُ الْهَدْيُ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کو ساتھ لے کر تلبیہ کہتے ہوئے ذی الحجہ کی چوتھی تاریخ کو (مکہ میں) تشریف لائے پھر آپ نے فرمایا: ”جن کے پاس ہدی نہیں ہے وہ بجائے حج کے عمرہ کی نیت کر لیں (اور عمرہ سے فارغ ہو کر حلال ہو جائیں پھر حج کا احرام باندھیں)۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الحج/حدیث: 777]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 18 كتاب تقصير الصلاة: 3 باب كم أقام النبي صلی اللہ علیہ وسلم في حجته»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 778
778 صحيح حديث ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ أَبِي جَمْرَةَ نَصْرِ بْنِ عِمْرَانَ الضُّبَعِيِّ، قَالَ: تَمَتَّعْتُ فَنَهَانِي نَاسٌ، فَسَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ فَأَمَرَنِي، فَرَأَيْتُ فِي الْمَنَامِ كَأَنَّ رَجُلاً يَقُولُ لِي: حَجٌّ مَبْرُورٌ، وَعُمْرَةٌ مُتَقَبَّلَةٌ، فَأَخْبَرْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ، فَقَالَ: سُنَّةَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لِي: أَقِمْ عِنْدِي فَأَجْعَلَ لَكَ سَهْمًا مِنْ مَالِي قَالَ شُعْبَةُ (الرَّاوِي عَنْهُ) ، فَقُلْتُ: لِمَ فَقَالَ: لِلرُّؤْيَا الَّتِي رَأَيْتُ
ابو جمرہ نصر بن عمران ضبعی رحمہ اللہ نے بیان کیا کہ میں نے حج اور عمرہ کا ایک ساتھ احرام باندھا، تو کچھ لوگوں نے مجھے منع کیا، اس لیے میں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اس کے متعلق دریافت کیا، آپ نے تمتع کرنے کے لیے کہا، پھر میں نے خواب میں ایک شخص کو دیکھا کہ مجھ سے کہہ رہا ہے: حج بھی مبرور ہوا اور عمرہ بھی مقبول ہوا۔ میں نے یہ خواب سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کو سنایا، تو آپ نے فرمایا کہ یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے، پھر فرمایا کہ میرے یہاں قیام کر، میں اپنے پاس سے تمہارے لیے کچھ مقرر کر کے دیا کروں گا۔ شعبہ (راوی) نے بیان کیا کہ میں نے (ابو جمرہ سے) پوچھا کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے یہ کیوں کیا تھا؟ (یعنی مال کس بات پر دینے کے لیے کہا) انہوں نے بیان کیا کہ اسی خواب کی وجہ سے جو میں نے دیکھا تھا۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الحج/حدیث: 778]
تخریج الحدیث: «صحیح، _x000D_ أخرجه البخاري في: 25 كتاب الحج: 34 باب التمتع والإقران والإفراد بالحج»
وضاحت: خواب کوئی شرعی حجت نہیں ہے مگر نیک لوگوں کے خواب جب شرعی امور کی تائید میں ہوں تو ان کے صحیح ہونے کا ظن غالب ہوتا ہے۔ سیّدنا ابن عباس رضی اللہ عنہمانے حج تمتع کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت بتلایا۔ سنت کے موافق تھوڑی سی عبادت بھی خلاف سنت بڑی سے بڑی عبادت سے زیادہ ثواب رکھتی ہے۔(راز)

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں