اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
386. باب جواز العمرة في أشهر الحج
باب: حج کے مہینوں میں عمرہ کے جائز ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 778
778 صحيح حديث ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ أَبِي جَمْرَةَ نَصْرِ بْنِ عِمْرَانَ الضُّبَعِيِّ، قَالَ: تَمَتَّعْتُ فَنَهَانِي نَاسٌ، فَسَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ فَأَمَرَنِي، فَرَأَيْتُ فِي الْمَنَامِ كَأَنَّ رَجُلاً يَقُولُ لِي: حَجٌّ مَبْرُورٌ، وَعُمْرَةٌ مُتَقَبَّلَةٌ، فَأَخْبَرْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ، فَقَالَ: سُنَّةَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لِي: أَقِمْ عِنْدِي فَأَجْعَلَ لَكَ سَهْمًا مِنْ مَالِي قَالَ شُعْبَةُ (الرَّاوِي عَنْهُ) ، فَقُلْتُ: لِمَ فَقَالَ: لِلرُّؤْيَا الَّتِي رَأَيْتُ
ابو جمرہ نصر بن عمران ضبعی رحمہ اللہ نے بیان کیا کہ میں نے حج اور عمرہ کا ایک ساتھ احرام باندھا، تو کچھ لوگوں نے مجھے منع کیا، اس لیے میں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اس کے متعلق دریافت کیا، آپ نے تمتع کرنے کے لیے کہا، پھر میں نے خواب میں ایک شخص کو دیکھا کہ مجھ سے کہہ رہا ہے: حج بھی مبرور ہوا اور عمرہ بھی مقبول ہوا۔ میں نے یہ خواب سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کو سنایا، تو آپ نے فرمایا کہ یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے، پھر فرمایا کہ میرے یہاں قیام کر، میں اپنے پاس سے تمہارے لیے کچھ مقرر کر کے دیا کروں گا۔ شعبہ (راوی) نے بیان کیا کہ میں نے (ابو جمرہ سے) پوچھا کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے یہ کیوں کیا تھا؟ (یعنی مال کس بات پر دینے کے لیے کہا) انہوں نے بیان کیا کہ اسی خواب کی وجہ سے جو میں نے دیکھا تھا۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الحج/حدیث: 778]
تخریج الحدیث: «صحیح، _x000D_ أخرجه البخاري في: 25 كتاب الحج: 34 باب التمتع والإقران والإفراد بالحج»
وضاحت: خواب کوئی شرعی حجت نہیں ہے مگر نیک لوگوں کے خواب جب شرعی امور کی تائید میں ہوں تو ان کے صحیح ہونے کا ظن غالب ہوتا ہے۔ سیّدنا ابن عباس رضی اللہ عنہمانے حج تمتع کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت بتلایا۔ سنت کے موافق تھوڑی سی عبادت بھی خلاف سنت بڑی سے بڑی عبادت سے زیادہ ثواب رکھتی ہے۔(راز)
الحكم على الحديث:
«صحیح»
Al-Lulu wal-Marjan Hadith 778 in Urdu