اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
398. باب بيان أن السعى بين الصفا والمروة ركن لا يصح الحج إِلا به
باب: صفا مروہ کی سعی حج کا رکن ہے، اس کے بغیر حج صحیح نہیں
حدیث نمبر: 802
802 صحيح حديث عَائِشَةَ عَنْ عُرْوَةَ، أَنَّهُ قَالَ: قُلْتُ لِعَائِشَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَنَا يَوْمَئِذٍ حَدِيثُ السِّنِّ: أَرَأَيْتِ قَوْلَ اللهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى (إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللهِ فَمَنْ حَجَّ الْبَيْتَ أَوِ اعْتَمَرَ فَلاَ جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ يَطَّوَّفَ بِهِمَا) فَلاَ أُرَى عَلَى أَحَدٍ شَيْئًا أَنْ لاَ يَطَّوَّفَ بِهِمَا فَقَالَتْ عَائِشَةُ: كَلاَّ، لَوْ كَانَتْ كَمَا تَقُولُ كَانَتْ فَلاَ جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ لاَ يَطَّوَّفَ بِهِمَا إِنَّمَا أُنْزِلَتْ هذِهِ الآيَة فِي الأَنْصَارِ كَانُوا يُهِلُّونَ لِمَنَاةَ، وَكَانَتْ مَنَاةُ حَذْوَ قُدَيْدٍ، وَكَانُوا يَتَحَرَّجُونَ أَنْ يَطُوفُوا بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، فَلَمَّا جَاءَ الإِسْلاَمُ سَأَلُوا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذلِكَ، فَأَنْزَلَ اللهُ تَعَالَى (إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللهِ فَمَنْ حَجَّ الْبَيْتَ أَوِ اعْتَمَرَ فَلاَ جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ يَطَّوَّفَ بِهِمَا)
عروہ رحمہ اللہ نے کہا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا، ابھی میں نوعمر تھا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿صفا اور مروہ دونوں اللہ تعالیٰ کی نشانیاں ہیں اس لیے جو شخص بیت اللہ کا حج یا عمرہ کرے اس کے لیے ان کی سعی کرنے میں کوئی گناہ نہیں﴾ [سورة البقرة: 158] ، اس لیے میں سمجھتا ہوں کہ اگر کوئی ان کی سعی نہ کرے تو اس پر کوئی گناہ نہ ہوگا، یہ سن کر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ ہرگز نہیں! اگر مطلب یہ ہوتا جیسا کہ تم بتا رہے ہو پھر تو ان کی سعی نہ کرنے میں واقعی کوئی حرج نہیں تھا، لیکن یہ آیت تو انصار کے بارے میں نازل ہوئی ہے جو منات بت کے نام کا احرام باندھتے تھے جو قدید کے مقابل میں رکھا ہوا تھا، وہ صفا اور مروہ کی سعی کو اچھا نہیں سمجھتے تھے، جب اسلام آیا تو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے بارے میں پوچھا اور اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی کہ ﴿صفا اور مروہ دونوں اللہ کی نشانیاں ہیں اس لیے جو شخص بیت اللہ کا حج یا عمرہ کرے اس کے لیے ان کی سعی کرنے میں کوئی گناہ نہیں﴾ [سورة البقرة: 158] ۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الحج/حدیث: 802]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 26 كتاب العمرة: 10 باب يفعل في العمرة ما يفعل في الحج»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
حدیث نمبر: 803
803 صحيح حديث عَائِشَةَ عَنْ عُرْوَةَ، قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ، فَقُلْتُ لَهَا: أَرَأَيْتِ قَوْلَ اللهِ تَعَالَى (إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللهِ فَمَنْ حَجَّ الْبَيْتَ أَوِ اعْتَمَرَ فَلاَ جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ يَطَّوَّفَ بِهِمَا) فَوَاللهِ مَا عَلَى أَحَدٍ جُنَاحٌ أَنْ لاَ يَطُوفَ بِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ قَالَتْ: بِئْسَ مَا قُلْتَ يَا ابْنَ أُخْتِى، إِنَّ هذِهِ الآيَةَ لَوْ كَانَتْ كَمَا أَوَّلْتَهَا عَلَيْهِ كَانَتْ لاَ جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ لاَ يَتَطَوَّفَ بِهِمَا وَلكِنَّهَا أُنْزِلَتْ فِي الأَنْصَارِ؛ كَانُوا قَبْلَ أَنْ يُسْلِمُوا يُهِلُّونَ لِمَنَاةَ الطَّاغِيَةِ الَّتِي كَانُوا يَعْبُدُونَهَا عِنْدَ الْمُشَلَّلِ، فَكَانَ مَنْ أَهَلَّ يَتَحَرَّجُ أَنْ يَطَّوَّفَ بِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، فَلَمَّا أَسْلَمُوا سَأَلُوا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنْ ذلِكَ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّا كُنَّا نَتَحَرَّجُ أَنْ نَطُوفَ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، فَأَنْزَلَ اللهُ تَعَالَى (إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللهِ) الآيَةَ قَالَتْ عَائِشَةُ، وَقَدْ سَنَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الطَّوَافَ بَيْنَهُمَا، فَلَيْسَ َلأحَدٍ أَنْ يَتْرُكَ الطَّوَافَ بَيْنَهُمَا (قَالَ الزُّهْرِيُّ، رَاوِي الْحَدِيثِ) ثُمَّ أَخْبَرْتُ أَبَا بَكْرِ ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمنِ، فَقَالَ: إِنَّ هذَا لَعِلْمٌ مَا كُنْتُ سَمِعْتُهُ، وَلَقَدْ سَمِعْتُ رِجَالاً مَنْ أَهْلِ الْعِلْمِ يَذْكُرُونَ أَنَّ النَّاسَ، إِلاَّ مَنْ ذَكَرَتْ عَائِشَةُ، مَمَّنْ كَانَ يُهِلُّ بِمَنَاةَ، كَانُوا يَطُوفُونَ كُلُّهُمْ، بِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، فَلَمَّا ذَكَرَ اللهُ تَعَالَى الطَّوَافَ بِالْبَيْتِ، وَلَمْ يَذْكُر الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ فِي الْقُرْآنِ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ كُنَّا نَطُوفُ بِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، وَإِنَّ اللهَ أَنْزَلَ الطَّوَافَ بِالْبَيتِ فَلَمْ يَذْكُرِ الصَّفَا، فَهَلْ عَلَيْنَا مِنْ حَرَجٍ أَنْ نَطَّوَّفَ بِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ فَأَنْزَلَ اللهُ تَعَالَى (إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللهِ) الآيَةَ قَالَ أَبُو بَكْرٍ: فَأَسْمَعُ هذِهِ الآيَةَ نَزَلَتْ فِي الْفَرِيقَيْنِ كِلَيْهِمَا: فِي الَّذِينَ كَانُوا يَتَحَرَّجُونَ أَنْ يَطُوفُوا بِالْجَاهِلَيَّةِ بِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، وَالَّذِينَ يَطُوفُونَ ثُمَّ تَحَرَّجُوا أَنْ يَطُوفُوا بِهِمَا فِي الإِسْلاَمِ، مِنْ أَجْلِ أَنَّ اللهَ تَعَالَى أَمَرَ بِالطَّوَافِ بِالْبَيْتِ، وَلَمْ يَذْكُرِ الصَّفَا حَتَّى ذَكَرَ ذلِكَ بَعْدَمَا ذَكَرَ الطَّوَافَ بِالْبَيْتِ
عروہ رحمہ اللہ نے بیان کیا کہ میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِن شَعَائِرِ اللَّهِ ۖ فَمَنْ حَجَّ الْبَيْتَ أَوِ اعْتَمَرَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَن يَطَّوَّفَ بِهِمَا﴾ [سورة البقرة: 158] (ترجمہ: صفا اور مروہ اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ہیں، اس لیے جو بیت اللہ کا حج یا عمرہ کرے اس کے لیے ان کا طواف کرنے میں کوئی گناہ نہیں) کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟ قسم اللہ کی! پھر تو کوئی حرج نہ ہونا چاہیے اگر کوئی صفا اور مروہ کی سعی نہ کرنا چاہے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: اے بھتیجے! تم نے یہ بری بات کہی، اللہ کا مطلب یہ ہوتا تو قرآن میں یوں اترتا کہ ان کے طواف نہ کرنے میں کوئی گناہ نہیں، بات یہ ہے کہ یہ آیت تو انصار کے لیے اتری تھی جو اسلام سے پہلے منات بت کے نام پر، جو مشلل میں رکھا ہوا تھا اور جس کی یہ پوجا کیا کرتے تھے، احرام باندھتے تھے۔ یہ لوگ جب (زمانۂ جاہلیت میں) احرام باندھتے تو صفا و مروہ کی سعی کو اچھا نہیں خیال کرتے تھے۔ اب جب اسلام لائے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق پوچھا اور کہا کہ اے اللہ کے رسول! ہم صفا اور مروہ کی سعی اچھی نہیں سمجھتے تھے، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی کہ صفا اور مروہ دونوں اللہ کی نشانیاں ہیں۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دو پہاڑوں کے درمیان سعی کی سنت جاری کی ہے، اس لیے کسی کے لیے مناسب نہیں ہے کہ اسے ترک کر دے۔ (زہری راویِ حدیث) نے کہا کہ پھر میں نے اس کا ذکر ابوبکر بن عبدالرحمن سے کیا تو انہوں نے فرمایا کہ میں نے تو یہ علمی بات اب تک نہیں سنی تھی، بلکہ میں نے بہت سے اصحابِ علم سے تو یہ سنا ہے کہ وہ یوں کہتے تھے کہ عرب کے لوگ (ان لوگوں کے سوا جن کا سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ذکر کیا جو منات کے لیے احرام باندھتے تھے) سب صفا و مروہ کا پھیرا کیا کرتے تھے۔ جب اللہ پاک نے قرآن شریف میں بیت اللہ کے طواف کا ذکر فرمایا اور صفا و مروہ کا ذکر نہیں کیا تو وہ لوگ کہنے لگے: اے اللہ کے رسول! ہم تو جاہلیت کے زمانے میں صفا اور مروہ کا پھیرا کیا کرتے تھے اور اب اللہ نے بیت اللہ کے طواف کا ذکر تو فرمایا لیکن صفا مروہ کا ذکر نہیں کیا، تو کیا صفا و مروہ کی سعی کرنے میں ہم پر کچھ گناہ ہو گا؟ تب اللہ نے یہ آیت اتاری: صفا و مروہ اللہ تعالیٰ کی نشانیاں ہیں۔ ابوبکر نے کہا: میں سنتا ہوں کہ یہ آیت دونوں فرقوں کے باب میں اتری ہے، یعنی اس فرقے کے باب میں جو جاہلیت کے زمانے میں صفا و مروہ کا طواف برا جانتا تھا اور اس کے باب میں جو جاہلیت کے زمانے میں صفا و مروہ کا طواف کیا کرتے تھے، پھر مسلمان ہونے کے بعد اس کا کرنا، اس وجہ سے کہ اللہ تعالیٰ نے بیت اللہ کے طواف کا ذکر کیا اور صفا و مروہ کا نہیں کیا، برا سمجھے، یہاں تک کہ اللہ نے بیت اللہ کے طواف کے بعد ان کا بھی ذکر فرما دیا۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الحج/حدیث: 803]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 25 كتاب الحج: 79 باب وجوب الصفا والمروة وجُعِلَ من شعائر الله»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
حدیث نمبر: 804
804 صحيح حديث أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رضي الله عنه عَنْ عَاصِمٍ، قَالَ: قُلْتُ َلانَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَكُنْتُمْ تَكْرَهُونَ السَّعْيَ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ قَالَ: نَعَمْ َلأَنَّهَا كَانَتْ مِنْ شَعَائِرِ الْجَاهِلَيَّةِ، حَتَّى أَنْزَلَ اللهُ (إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللهِ فَمَنْ حَجَّ الْبَيْتَ أَوِ اعْتَمَرَ فَلاَ جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ يَطَّوَّفَ بِهِمَا)
سیدنا عاصم رحمہ اللہ نے بیان کیا کہ میں نے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے پوچھا: کیا آپ لوگ صفا اور مروہ کی سعی کو برا سمجھتے تھے؟ انہوں نے فرمایا: ہاں، کیونکہ یہ عہدِ جاہلیت کا شعار تھا، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرما دی: ﴿إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ ۖ فَمَنْ حَجَّ الْبَيْتَ أَوِ اعْتَمَرَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ يَطَّوَّفَ بِهِمَا﴾ [سورة البقرة: 158] ”صفا اور مروہ اللہ تعالیٰ کی نشانیاں ہیں، پس جو کوئی بیت اللہ کا حج یا عمرہ کرے اس پر ان کی سعی کرنے میں کوئی گناہ نہیں ہے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الحج/حدیث: 804]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 25 كتاب الحج: 80 باب ما جاء في السعى بين الصفا والمروة»
الحكم على الحديث:
«صحیح»