🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

اللؤلؤ والمرجان میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1906)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

399. باب استحباب إِدامة الحاج التلبية حتى يشرع في رمى جمرة العقبة يوم النحر
باب: حاجی جمرہ عقبہ کی رمی شروع کرنے تک لبیک پکارتا جائے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 805
805 صحيح حديث أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ وَالْفَضْلُ عَنْ كُرَيْبٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، أَنَّهُ قَالَ: رَدِفْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عَرَفَاتٍ، فَلَمَّا بَلَغَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الشِّعْبَ الأَيْسَرَ الَّذِي دُونَ الْمُزْدَلِفَةِ أَنَاخَ، فَبَالَ، ثُمَّ جَاءَ فَصَبَبْتُ عَلَيْهِ الْوَضُوءَ، فَتَوَضَّأَ وُضُوءًا خَفِيفًا فَقُلْتُ الصَّلاَةُ يَا رَسُولَ اللهِ قَالَ: الصَّلاَةُ أَمَامَكَ فَرَكِبَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حَتَّى أَتَى الْمُزْدَلِفَةَ، فَصَلَّى، ثُمَّ رَدِفَ الْفَضْلُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَدَاةَ جَمْعٍ قَالَ كُرَيْبٌ: فَأَخْبَرَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبَّاسٍ، عَنِ الْفَضْلِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَزَلْ يُلَبِّي حَتَّى بَلَغَ الْجَمْرَةَ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے غلام کریب روایت کرتے ہیں کہ سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں عرفات سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری پر آپ کے پیچھے بیٹھا ہوا تھا، مزدلفہ کے قریب بائیں طرف جو گھاٹی پڑتی ہے، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں پہنچے تو آپ نے اونٹ کو بٹھایا، پھر پیشاب کیا اور تشریف لائے تو میں نے آپ پر وضو کا پانی ڈالا، آپ نے ہلکا سا وضو کیا، میں نے کہا: ”یا رسول اللہ! اور نماز؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نماز تمہارے آگے ہے (یعنی مزدلفہ میں پڑھی جائے گی)“ پھر آپ سوار ہو گئے، جب مزدلفہ میں آئے تو (مغرب اور عشاء کی نماز ملا کر) پڑھی، پھر مزدلفہ کی صبح (یعنی دسویں تاریخ) کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری کے پیچھے سیدنا فضل بن عباس رضی اللہ عنہما سوار ہوئے، کریب نے کہا کہ مجھے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے سیدنا فضل بن عباس رضی اللہ عنہما کے ذریعہ سے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم برابر «لَبَّيْكَ» ”لبیک“ کہتے رہے تا آنکہ جمرہ عقبہ پر پہنچ گئے (اور وہاں آپ نے کنکریاں ماریں)۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الحج/حدیث: 805]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 25 كتاب الحج: 93 باب النزول بين عرفة وجمع»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں