🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

اللؤلؤ والمرجان میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1906)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

404. باب رمي جمرة العقبة من بطن الوادي وتكون مكة عن يساره ويكبر مع كل حصاة
باب: جمرہ عقبہ پر کنکریاں مارنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 816
816 صحيح حديث عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمنِ بْنِ يَزِيدَ، قَالَ: رَمَى عَبْدُ اللهِ مِنْ بَطْنِ الْوَادِي، فَقُلْتُ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمنِ إِنَّ نَاسًا يَرْمُونَهَا مِنْ فَوْقِهَا فَقَالَ: وَالَّذِي لاَ إِلهَ غَيْرُهُ، هذَا مَقَامُ الَّذِي أُنْزِلَتْ عَلَيْهِ سُورَةُ الْبَقَرَةِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
عبدالرحمن بن یزید رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے وادی کے نشیب «بَطْنِ الْوَادِي» میں کھڑے ہو کر کنکری ماری، تو میں نے کہا: اے ابو عبدالرحمن! کچھ لوگ تو وادی کے بالائی علاقے سے کنکری مارتے ہیں، انہوں نے یہ جواب دیا کہ اس ذات کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں، یہی (بطن وادی) ان کے کھڑے ہونے کی جگہ ہے (رمی کرتے وقت) جن پر سورہ بقرہ نازل ہوئی تھی ( صلی اللہ علیہ وسلم )۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الحج/حدیث: 816]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 25 كتاب الحج: 135 باب رمى الجمار من بطن الوادي»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 817
817 صحيح حديث عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ عَنِ الأَعْمَشِ، قَالَ: سَمِعْتُ الْحَجَّاجَ يَقُولُ عَلَى الْمِنْبَرِ: السُّورَةُ الَّتِي يُذْكَرُ فِيهَا الْبَقَرَةُ، وَالسُّورَةُ الَّتِي يُذْكَرُ فِيهَا آلُ عِمْرَانَ، وَالسُّورَةُ الَّتِي يُذْكَرُ فِيهَا النِّسَاءُ، قَالَ: فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لإِبْرَاهِيمَ، فَقَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمنِ ابْنُ يَزِيدَ، أَنَّهُ كَانَ مَعَ ابْنِ مَسْعُودٍ رضي الله عنه، حِينَ رَمَى جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ، فَاسْتَبْطَنَ الْوَادِيَ، حَتَّى حَاذَى بِالشَّجَرَةِ اعْتَرَضَهَا، فَرَمَى بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ، يُكَبِّرُ مَعَ كُلِّ حَصَاةٍ ثُمَّ قَالَ: مِنْ ههُنَا، وَالَّذِي لاَ إِلهَ غَيْرُهُ، قَامَ الَّذِي أُنْزِلَتْ عَلَيْهِ سُورَةُ الْبَقَرَةِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
سلیمان اعمش رحمہ اللہ نے بیان کیا کہ میں نے حجاج سے سنا، وہ منبر پر سورتوں کا یوں نام لے رہا تھا: وہ سورہ جس میں بقرہ (گائے) کا ذکر آیا ہے، وہ سورہ جس میں آل عمران کا ذکر آیا ہے، وہ سورہ جس میں نساء (عورتوں) کا ذکر آیا ہے۔ اعمش نے کہا: میں نے اس کا ذکر ابراہیم نخعی رحمہ اللہ سے کیا تو انہوں نے فرمایا کہ مجھ سے عبدالرحمان بن یزید نے بیان کیا کہ جب سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے جمرہ عقبہ کی رمی کی تو وہ ان کے ساتھ تھے، اس وقت وہ وادی کے نشیب میں اتر گئے اور جب درخت کے (جو اس وقت وہاں پر تھا) برابر نیچے اور اس کے سامنے ہو کر سات کنکریوں سے رمی کی، ہر کنکری کے ساتھ «اللهُ أَكْبَرُ» ”اللہ بہت بڑا ہے“ کہتے جاتے تھے، پھر فرمایا: قسم ہے اس کی جس کے سوا کوئی معبود نہیں! یہیں وہ ذات بھی کھڑی ہوئی تھی جس پر سورہ بقرہ نازل ہوئی صلی اللہ علیہ وسلم ۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الحج/حدیث: 817]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 25 كتاب الحج: 138 باب يكبر مع كل حصاة»
وضاحت: تکبیر کی کیفیت جسے ماوردی نے امام شافعی سے نقل کیا ہے اس طرح کہے اللہ اکبر اللہ اکبر لاالہ الااللہ و اللہ اکبر وللہ الحمد۔ (مرتبؒ)

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں