اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
404. باب رمي جمرة العقبة من بطن الوادي وتكون مكة عن يساره ويكبر مع كل حصاة
باب: جمرہ عقبہ پر کنکریاں مارنے کا بیان
حدیث نمبر: 816
816 صحيح حديث عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمنِ بْنِ يَزِيدَ، قَالَ: رَمَى عَبْدُ اللهِ مِنْ بَطْنِ الْوَادِي، فَقُلْتُ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمنِ إِنَّ نَاسًا يَرْمُونَهَا مِنْ فَوْقِهَا فَقَالَ: وَالَّذِي لاَ إِلهَ غَيْرُهُ، هذَا مَقَامُ الَّذِي أُنْزِلَتْ عَلَيْهِ سُورَةُ الْبَقَرَةِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
عبدالرحمن بن یزید رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے وادی کے نشیب «بَطْنِ الْوَادِي» میں کھڑے ہو کر کنکری ماری، تو میں نے کہا: اے ابو عبدالرحمن! کچھ لوگ تو وادی کے بالائی علاقے سے کنکری مارتے ہیں، انہوں نے یہ جواب دیا کہ اس ذات کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں، یہی (بطن وادی) ان کے کھڑے ہونے کی جگہ ہے (رمی کرتے وقت) جن پر سورہ بقرہ نازل ہوئی تھی ( صلی اللہ علیہ وسلم )۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الحج/حدیث: 816]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 25 كتاب الحج: 135 باب رمى الجمار من بطن الوادي»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
Al-Lulu wal-Marjan Hadith 816 in Urdu