اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
408. باب استحباب طواف الإفاضة يوم النحر
باب: طواف افاضہ نحر کے دن بجا لانا مستحب ہے
حدیث نمبر: 824
824 صحيح حديث أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ عَبْدِ العَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ، قَالَ: سَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ رضي الله عنه، قُلْتُ: أَخْبِرْنِي بِشَيْءٍ عَقَلْتَهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَيْنَ صَلَّى الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ يَوْمَ التَّرْوِيَةِ قَالَ: بِمِنًى قُلْتُ: فَأَيْنَ صَلَّى الْعَصْرَ يَوْمَ النَّفْرِ قَالَ: بِالأَبْطَحِ ثُمَّ قَالَ: افْعَلْ كَمَا يَفْعَلُ أُمَرَاؤُكَ
عبدالعزیز بن رفیع رحمہ اللہ نے بیان کیا کہ میں نے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر اور عصر کی نماز آٹھویں ذی الحجہ میں کہاں پڑھی تھی؟ اگر آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یاد ہے تو مجھے بتائیے۔ انہوں نے جواب دیا کہ منیٰ میں۔ میں نے پوچھا کہ بارہویں تاریخ کو عصر کہاں پڑھی تھی؟ فرمایا کہ محصب میں۔ پھر انہوں نے فرمایا کہ جس طرح تمہارے حکام کرتے ہیں اسی طرح تم بھی کرو۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الحج/حدیث: 824]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 25 كتاب الحج: 83 باب أين يصلى الظهر يوم التروية»
الحكم على الحديث:
«صحیح»