اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
409. باب استحباب النزول بالمحصب يوم النفر والصلاة به
باب: کوچ کے دن محصب میں اترنا مستحب ہے
حدیث نمبر: 825
825 صحيح حديث عَائِشَةَ، قَالَتْ: إِنَّمَا كَانَ مَنْزِلٌ يَنْزِلُهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيَكُونَ أَسْمَحَ لِخُرُوجِهِ، تَعْنِي بِالأَبْطَحِ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منیٰ سے کوچ کر کے یہاں محصب میں اس لیے اترے تھے تاکہ آسانی کے ساتھ وہاں سے مدینہ کو نکل سکیں، آپ کی مراد ابطح میں اترنے سے تھی۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الحج/حدیث: 825]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 35 كتاب الحج: 147 باب المحصّب»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
حدیث نمبر: 826
826 صحيح حديث ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: لَيْسَ التَّحْصِيبُ بِشَيْءٍ، إِنَّمَا هُوَ مَنْزِلٌ نَزَلَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ محصب میں اترنا حج کی کوئی عبادت نہیں ہے، یہ تو صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قیام کی جگہ تھی۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الحج/حدیث: 826]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 25 كتاب الحج: 147 باب المحصّب»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
حدیث نمبر: 827
827 صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْغَدِ يَوْمَ النَّحْرِ وَهُوَ بِمِنًى: نَحْنُ نَازِلُونَ غَدًا بِخَيْفِ بَنِى كِنَانَةَ حَيْثُ تَقَاسَمُوا عَلَى الْكُفْرِ يَعْنِى ذلِكَ الْمُحَصَّبَ وَذلِكَ أَنَّ قُرَيْشًا وَكِنَانَةَ تَحَالَفَتْ عَلَى بَنِى هَاشِمٍ وَبَنِى عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، أَوْ بَنِى الْمُطَّلِبِ، أَنْ لاَ يُنَاكِحُوهُمْ وَلاَ يُبَايِعُوهُمْ حَتَّى يُسْلِمُوا إِلَيْهِمُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ گیارہویں (ذی الحجہ) کی صبح کو جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منیٰ میں تھے تو یہ فرمایا تھا: ”کل ہم خیفِ بنی کنانہ میں قیام کریں گے جہاں قریش نے کفر کی حمایت کی قسم کھائی تھی“، آپ کی مراد محصب سے تھی کیونکہ یہیں قریش اور کنانہ نے بنو ہاشم اور بنو عبدالمطلب یا (راوی نے) بنو المطلب (کہا) کے خلاف حلف اٹھایا تھا کہ جب تک وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کے حوالے نہ کر دیں، ان کے ہاں بیاہ شادی نہ کریں گے اور نہ ان سے خرید و فروخت کریں گے۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الحج/حدیث: 827]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 25 كتاب الحج: 45 باب نزول النبي صلی اللہ علیہ وسلم مكة»
الحكم على الحديث:
«صحیح»