🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

اللؤلؤ والمرجان میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1906)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

416. باب استحباب دخول الكعبة للحاج وغيره والصلاة فيها والدعاء في نواحيها كلها
باب: حاجی کے لیے کعبہ کے اندر جانا، نماز اور دعا وغیرہ کرنا مستحب ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 838
838 صحيح حديث بِلاَلٍ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ الْكَعْبَةَ، وَأُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ وَبِلاَلٌ وَعُثْمَانُ بْنُ طَلْحَةَ الْحَجَبِيُّ، فَأَغْلَقَهَا عَلَيْهِ، وَمَكُثَ فِيهَا فَسَأَلْتُ بِلاَلاً حِينَ خَرَجَ: مَا صَنَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: جَعَلَ عَمُودًا عَنْ يَسَارِهِ وَعَمُودًا عَنْ يَمِينِهِ، وَثَلاَثَةَ أَعْمِدَةٍ وَرَاءَهُ، وَكَانَ الْبَيْتُ يَوْمَئِذٍ عَلَى سِتَّةِ أَعْمِدَةٍ، ثُمَّ صَلَّى
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کعبہ کے اندر تشریف لے گئے اور اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ، بلال رضی اللہ عنہ اور عثمان بن طلحہ حجیبی رضی اللہ عنہ بھی آپ کے ساتھ تھے، پھر عثمان رضی اللہ عنہ نے کعبہ کا دروازہ بند کر دیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس میں ٹھہرے رہے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم باہر نکلے تو میں نے بلال رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اندر کیا کیا؟ انہوں نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ستون کو تو بائیں طرف چھوڑا اور ایک کو دائیں طرف اور تین کو پیچھے، اور اس زمانہ میں خانہ کعبہ میں چھ ستون تھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الحج/حدیث: 838]
تخریج الحدیث: «صحیح، _x000D_ أخرجه البخاري في: 8 كتاب الصلاة: 96 باب الصلاة بين السواري في غير جماعة»
وضاحت: راوي حدیث: موذن رسول صلی اللہ علیہ وسلم سیّدنا بلال بن رباح رضی اللہ عنہ سیّدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی دعوت پر ابتداء ہی میں مسلمان ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں خرید کر آزاد کر دیا۔ یہ پہلے شخص تھے جنہوں نے مکہ میں اپنا اسلام ظاہر کیا۔ مکہ والوں سے اسلام کے قبول کرنے پر بڑی اذیتیں اٹھائیں۔ بدر اور دیگر غزوات میں شریک رہے۔ لاولد رہے۔ آخری عمر میں شام میں رہائش اختیار کر لی تھی۔ ۲۰ ہجری میں تریسٹھ سال کی عمر میں وفات پائی۔ ۴۴ احادیث کے راوی ہیں جن میں سے چار متفق علیہ ہیں۔

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 839
839 صحيح حديث ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: لَمَّا دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْبَيْتَ دَعَا فِي نَوَاحِيهِ كُلِّهَا وَلَمْ يُصَلِّ حَتَّى خَرَجَ مِنْهُ؛ فَلَمَّا خَرَجَ رَكَعَ رَكْعَتَيْنِ فِي قِبَلِ الْكَعْبَةِ، وَقَالَ: هذِهِ الْقِبْلَةُ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کعبہ کے اندر تشریف لے گئے تو اس کے چاروں کونوں میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی اور نماز نہیں پڑھی، پھر جب باہر تشریف لائے تو دو رکعت نماز کعبہ کے سامنے پڑھی اور فرمایا: ”یہی قبلہ ہے“۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الحج/حدیث: 839]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 8 كتاب الصلاة: 30 باب قول الله تعالى (واتخذوا من مقام إبراهيم مصلى»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 840
840 صحيح حديث عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى، قَالَ: اعْتَمَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَطَافَ بِالْبَيْتِ وَصَلَّى خَلْفَ الْمَقَامِ رَكْعَتَيْنِ وَمَعَهُ مَنْ يَسْتُرُهُ مِنَ النَّاسِ فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ: أَدَخَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْكَعْبَةَ قَالَ: لاَ
سیدنا عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمرہ کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کعبہ کا طواف کر کے مقامِ ابراہیم کے پیچھے دو رکعات پڑھیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کچھ لوگ تھے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور لوگوں کے درمیان آڑ بنے ہوئے تھے، ان میں سے ایک صاحب نے ابن ابی اوفی رضی اللہ عنہ سے پوچھا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کعبہ کے اندر تشریف لے گئے تھے؟ تو انہوں نے بتایا کہ نہیں۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الحج/حدیث: 840]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 25 كتاب الحج: 53 باب من لم يدخل الكعبة»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں