🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

اللؤلؤ والمرجان میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1906)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

415. باب وجوب طواف الوداع وسقوطه عن الحائض
باب: طواف وداع کے واجب ہونے اور حائضہ سے ساقط ہونے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 835
835 صحيح حديث ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: أُمِرَ النَّاسُ أَنْ يَكُونَ آخِرُ عَهْدِهِمْ بِالْبَيْتِ، إِلاَّ أَنَّهُ خُفِّفَ عَنِ الْحَائِضِ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ لوگوں کو اس کا حکم تھا کہ ”ان کا آخری وقت بیت اللہ کے ساتھ ہو (یعنی طواف وداع کریں)“ البتہ حائضہ سے یہ معاف ہو گیا تھا۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الحج/حدیث: 835]
تخریج الحدیث: «صحیح، _x000D_ أخرجه البخاري في: 25 كتاب الحج: 144 باب طواف الوداع»
وضاحت: یہ حدیث دلیل ہے کہ طواف وداع سوائے حائضہ کے ہر حاجی پر واجب ہے جب کہ حائضہ سے ساقط ہے اور اس کے ترک پر فدیہ(دینا) بھی لازم نہیں آئے گا۔(مرتبؒ)

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 836
836 صحيح حديث عَائِشَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهَا قَالَتْ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّ صَفِيَّةَ بِنْتَ حُيَيٍّ قَدْ حَاضَتْ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَعَلَّهَا تَحْبِسُنَا، أَلَمْ تَكُنْ طَافَتْ مَعَكُنَّ فَقَالُوا: بَلَى؛ قَالَ: فَاخْرُجِي
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ یا رسول اللہ! صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا کو (حج میں) حیض آ گیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”شاید کہ وہ ہمیں روکیں گی؟ کیا انہوں نے تمہارے ساتھ طواف (زیارت) نہیں کیا؟“ عورتوں نے جواب دیا کہ کر لیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا: ”پھر نکلو۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الحج/حدیث: 836]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 6 كتاب الحيض: 27 باب المرأة تحيض بعد الإفاضة»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 837
837 صحيح حديث عَائِشَةَ، قَالَتْ: حَاضَتْ صَفِيَّةُ لَيْلَةَ النَّفْرِ، فَقَالَتْ: مَا أُرَانِي إِلاَّ حَابِسَتَكُمْ؛ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: عَقْرَى حَلْقَى أَطَافَتْ يَوْمَ النَّحْرِ قِيلَ: نَعَمْ قَالَ: فَانْفِرِى
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ مکہ سے روانگی کی رات سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا حائضہ تھیں، انہوں نے کہا کہ ایسا معلوم ہوتا ہے میں ان لوگوں کے رکنے کا باعث بن جاؤں گی، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «عَقْرَىٰ حَلْقَىٰ» ”کیا تو نے قربانی کے دن طواف الزیارۃ کیا تھا؟“ انہوں نے کہا کہ جی ہاں کر لیا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر چلو۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الحج/حدیث: 837]
تخریج الحدیث: «صحیح، _x000D_ أخرجه البخاري في: 25 كتاب الحج: 151 باب الإدلاج من المحصّب»
وضاحت: عقریٰ کا لفظی ترجمہ بانجھ اور حلقی کا سرمنڈی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ازراہ محبت یہ لفظ استعمال فرمائے۔ یہ بول چال کا عام محاورہ ہے۔(راز)

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں