اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
421. باب سفر المرأة مع محرم إِلى حج وغيره
باب: عورت حج وغیرہ میں بغیر محرم کے سفر نہ کرے
حدیث نمبر: 847
847 صحيح حديث ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لاَ تُسَافِرُ الْمَرْأَةُ ثَلاَثًا إِلاَّ مَعَ ذِي مَحْرَمٍ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کیا: ”عورتیں تین دن کا سفر ذی رحم محرم کے بغیر نہ کریں۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الحج/حدیث: 847]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 18 كتاب تقصير الصلاة: 4 باب في كم يقْصر الصلاة»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
حدیث نمبر: 848
848 صحيح حديث أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ: أَرْبَعٌ سَمِعْتُهُنَّ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَعْجَبْنَنِي وَآنَقْنَنِي: أَنْ لاَ تُسَافِرَ امْرَأَةٌ مَسِيرَةَ يَوْمَيْنِ لَيْسَ مَعَهَا زَوْجُهَا أَوْ ذُو مَحْرَمٍ وَلاَ تُشَدُّ الرِّحَالُ إِلاَّ إِلَى ثَلاَثَةِ مَسَاجِدَ: مَسْجِدِ الْحَرَامِ، وَمَسْجِدِي، وَمَسْجِدِ الأَقْصى
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے تھے کہ میں نے چار باتیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی تھیں، یہ باتیں مجھے انتہائی پسند ہیں: ”کوئی عورت دو دن کا سفر اس وقت تک نہ کرے جب تک اس کے ساتھ اس کا شوہر یا کوئی ذو رحم محرم نہ ہو، اور نہ تین مساجد کے سوا کسی کے لیے کجاوے باندھے جائیں: مسجد حرام، میری (مسجد نبوی) اور مسجد اقصی۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الحج/حدیث: 848]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 28 كتاب جزاء الصيد: 26 باب حج النساء»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
حدیث نمبر: 849
849 صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لاَ يَحِلُّ لاِمْرَأَةٍ تؤْمِنُ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ أَنْ تُسَافِرَ مَسِيرَةَ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ لَيْسَ مَعَهَا حُرْمَةٌ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کسی خاتون کے لیے جو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان رکھتی ہو جائز نہیں کہ ایک دن رات کا سفر بغیر کسی ذی رحم محرم کے کرے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الحج/حدیث: 849]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 18 كتاب تقصير الصلاة: 4 باب في كم يقصر الصلاةَ»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
حدیث نمبر: 850
850 صحيح حديث ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: لاَ يَخْلُوَنَّ رَجُلٌ بِامْرَأَةٍ، وَلاَ تُسَافِرَنَّ امْرَأَةٌ إِلاَّ وَمَعَهَا مَحْرَمٌ فَقَامَ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ اكْتُتِبْتُ فِي غَزْوَةِ كَذَا وَكَذَا، وَخَرَجَتِ امْرَأَتِي حَاجَّةً قَالَ: اذْهَبْ فَحُجَّ مَعَ امْرَأَتِكَ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ”کوئی مرد کسی (غیر محرم) عورت کے ساتھ تنہائی میں نہ بیٹھے اور کوئی عورت اس وقت تک سفر نہ کرے جب تک اس کے ساتھ اس کا کوئی محرم نہ ہو۔“ اتنے میں ایک صحابی کھڑے ہوئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! میں نے فلاں جہاد میں اپنا نام لکھوا دیا ہے اور ادھر میری بیوی حج کے لیے جا رہی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ”پھر تو بھی جا اور اپنی بیوی کے ساتھ حج کر۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الحج/حدیث: 850]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 56 كتاب الجهاد: 14 باب من اكتتب في جيش فخرجت امرأته حاجة»
الحكم على الحديث:
«صحیح»