اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
424. باب لا يحج البيت مشرك ولا يطوف بالبيت عريان وبيان يوم الحج الأكبر
باب: مشرک بیت اللہ کا حج نہ کرے اور برہنہ ہو کر بیت اللہ کا طواف نہ کیا جائے اور یوم حج اکبر کا بیان
حدیث نمبر: 854
854 صحيح حديث أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رضي الله عنه، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَن أَبَا بَكْرٍ الصِّدِّيقَ رضي الله عنه، بَعَثَهُ فِي الْحَجَّةِ الَّتِي أَمَّرَهُ عَلَيْهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَبْلَ حَجَّةِ الْوَدَاعِ يَوْمَ النَّحْرِ، فِي رَهْطٍ، يُؤَذِّنُ فِي النَّاسِ: أَلاَ لاَ يَحُجُّ بَعْدَ الْعَامِ مُشْرِكٌ، وَلاَ يَطُوفُ بِالْبَيْتِ عُرْيَانٌ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اس حج کے موقع پر جس کا امیر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بنایا تھا، انہیں دسویں تاریخ کو ایک مجمع کے سامنے یہ اعلان کرنے کے لیے بھیجا تھا کہ ”اس سال کے بعد کوئی مشرک حج بیت اللہ نہیں کر سکتا اور نہ کوئی شخص ننگا ہو کر طواف کر سکتا ہے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الحج/حدیث: 854]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في:25 كتاب الحج: 67 باب لا يطوف بالبيت عريان ولا يحج مشرك»
وضاحت: عہد جاہلیت میں عام اہل عرب یہ کہہ کر کہ ہم نے ان کپڑوں میں گناہ کئے ہیں، ان کو اتار دیتے پھر یا تو قریش سے کپڑے مانگ کر طواف کرتے یا پھر ننگے ہی طواف کرتے۔ اس پر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ اعلان کرایا۔ (راز)
الحكم على الحديث:
«صحیح»