🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

اللؤلؤ والمرجان میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1906)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

423. باب التعريس بذى الحليفة والصلاة بها إِذا صدر من الحج أو العمرة
باب: ذوالحلیفہ میں اترنے وغیرہ کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 852
852 صحيح حديث عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَاخَ بِالْبَطْحَاءِ بِذِي الْحُلَيْفَةِ فَصَلَّى بِهَا وَكَانَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ، يَفْعَلُ ذلِكَ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مقام ذوالحلیفہ کے پتھریلے میدان میں اپنی سواری روکی اور پھر وہیں آپ نے نماز پڑھی، سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بھی ایسا ہی کیا کرتے تھے۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الحج/حدیث: 852]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 25 كتاب الحج: 14 باب حدثنا عبد الله بن يوسف»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 853
853 صحيح حديث عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ رُئِيَ وَهُوَ فِي مُعَرَّسٍ بِذِي الْحُلَيْفَةِ بِبَطْنِ الْوَادِي، قِيلَ لَهُ إِنَّكَ بِبَطْحَاءَ مُبَارَكَة (قَالَ مُوسى بْنُ عُقْبَةَ، أَحَدُ رِجَالِ السَّنَدِ) : وَقَدْ أَنَاخَ بِنَا سَالِمٌ يَتَوَخَّى بِالْمُنَاخِ الَّذِي كَانَ عَبْدُ اللهِ يُنِيخُ، يَتَحَرَّى مُعَرَّسَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهُوَ أَسْفَلُ مِنَ الْمَسْجِدِ الَّذِي بِبَطْنِ الْوَادِي، بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ الطَّرِيقِ وَسَطٌ مِنْ ذلِكَ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو معرس کے قریب ذوالحلیفہ کی بطن وادی (وادی عقیق) دکھایا گیا (جس میں) آپ سے کہا گیا تھا کہ ”آپ اس وقت بطحا مبارکہ میں ہیں“ موسیٰ بن عقبہ (سند میں سے ایک راوی) نے کہا کہ سالم رحمہ اللہ نے ہمیں بھی وہاں ٹھہرایا، وہ اس مقام کو ڈھونڈ رہے تھے جہاں سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہما اونٹ بٹھایا کرتے تھے، یعنی جہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کو اترا کرتے تھے، وہ مقام اس مسجد کے نیچے کی طرف ہے جو نالے کے نشیب میں ہے، اترنے والوں اور راستے کے بیچوں بیچ ہے۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الحج/حدیث: 853]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 25 كتاب الحج: 16 باب قول النبي صلی اللہ علیہ وسلم العقيق واد مبارك»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں