🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

اللؤلؤ والمرجان میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1906)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

433. باب المدينة تنفي شرارها
باب: مدینہ کا بری چیزوں کو اپنے سے دور کرنا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 872
872 صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أُمِرْتُ بِقَرْيَةٍ تَأْكُلُ الْقُرَى، يَقُولُونَ يَثْرِبُ، وَهِيَ الْمَدِينَةُ تَنْفِي النَّاسَ كَمَا يَنْفِي الْكِيرُ خَبَثَ الْحَدِيدِ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے ایک ایسے شہر میں ہجرت کا حکم ہوا ہے جو دوسرے شہروں کو کھا لے گا (یعنی ان سب کا سردار بنے گا) منافقین اسے یثرب کہتے ہیں، لیکن اس کا نام مدینہ ہے، وہ (برے) لوگوں کو اس طرح باہر کر دیتا ہے جس طرح بھٹی لوہے کے زنگ کو نکال دیتی ہے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الحج/حدیث: 872]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 29 كتاب فضائل المدينة: 2 باب فضل المدينة وأنها تنفي الناس»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 873
873 صحيح حديث جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، أَنَّ أَعْرَابِيًّا بَايَعَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الإِسْلاَمِ، فَأَصَابَ الأَعْرَابِيَّ وَعْكٌ بِالْمَدِينَةِ، فَأَتَى الأَعْرَابِيُّ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ أَقِلْنِي بَيْعَتِي، فَأَبى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؛ ثُمَّ جَاءَهُ، فَقَالَ: أَقِلْنِي بَيْعَتِي، فَأَبى؛ ثُمَّ جَاءَهُ فَقَالَ: أَقِلْنِي بَيْعَتِي، فَأَبى؛ فَخَرَجَ الأَعْرَابِيُّ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّمَا الْمَدِينَةُ كَالْكِيرِ تَنْفِي خَبَثَهَا وَيَنْصَعُ طِيبُهَا
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ ایک دیہاتی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اسلام پر بیعت کی، پھر اسے مدینہ میں بخار آ گیا تو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: ”یا رسول اللہ! میری بیعت فسخ کر دیجیے۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انکار کیا، پھر وہ دوبارہ آیا اور کہا: ”میری بیعت فسخ کر دیجیے۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مرتبہ بھی انکار کیا، پھر وہ آیا اور بیعت فسخ کرنے کا مطالبہ کیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مرتبہ پھر انکار کیا، اس کے بعد وہ خود ہی (مدینہ سے) چلا گیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا: ”مدینہ بھٹی کی طرح ہے، اپنی میل کچیل کو دور کر دیتا ہے اور خالص مال رکھ لیتا ہے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الحج/حدیث: 873]
تخریج الحدیث: «صحیح، _x000D_ أخرجه البخاري في: 93 كتاب الأحكام: 47 باب من بايع ثم استقال البيعة»
وضاحت: حدیث کا معنی یہ ہے کہ کہ مدینہ سے ہر وہ شخص نکل جائے گا جس کا ایمان خالص نہیں۔ اس میں صرف خالص ایمان والے رہ جائیں گے۔(مرتبؒ)

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 874
874 صحيح حديث زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ رضي الله عنه، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِنَّهَا طَيْبَةُ تَنْفِي الْخَبَثَ كَمَا تَنْفِي النَّارُ خَبَثَ الْفِضَّةِ
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ مدینہ طیبہ ہے، یہ خباثت کو اس طرح دور کر دیتا ہے جیسے آگ چاندی کی میل کچیل کو دور کر دیتی ہے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الحج/حدیث: 874]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 65 كتاب التفسير: 4 سورة النساء: 15 باب فما لكم في المنافقين فئتين»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں