اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
558. باب ثبوت القصاص في القتل بالحجر وغيره من المحددات والمثقلات وقتل الرجل بالمرأة
باب: پتھر، تیز دھار آلے یا بھاری چیز سے قتل کرنے میں قصاص لازم ہو گا اسی طرح مرد کو عورت کے بدلے قتل کریں گے
حدیث نمبر: 1087
1087 صحيح حديث أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: عَدَا يَهُودِيٌّ، فِي عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَلَى جَارِيَةٍ، فَأَخَذَ أَوْضَاحًا كَانَتْ عَلَيْهَا، وَرَضَخَ رَأْسَهَا؛ فَأَتَى بِهَا أَهْلُهَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهِيَ فِي آخِرِ رَمَقٍ، وَقَدْ أُصْمِتَتْ فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ قَتَلَكِ، فُلاَنٌ لِغَيْرِ الَّذِي قَتَلَهَا، فَأَشَارَتْ بِرَأْسِهَا أَنْ لاَ قَالَ، فَقَالَ لِرَجُلٍ آخَرَ غَيْرِ الَّذِي قَتَلَهَا فَأَشَارَتْ أَنْ لاَ، فَقَالَ: فَفُلاَنٌ لِقَاتِلِهَا فَأَشَارَتْ أَنْ نَعَمْ؛ فَأَمَرَ بِهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرُضِخَ رَأْسُهُ بَيْنَ حَجَرَيْن
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ایک یہودی نے ایک لڑکی پر ظلم کیا، اس کے چاندی کے زیورات جو وہ پہنے ہوئے تھی چھین لیے اور اس کا سر کچل دیا۔ لڑکی کے گھر والے اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لائے تو اس کی زندگی کی بس آخری گھڑی باقی تھی اور وہ بول نہیں سکتی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا: ”تمہیں کس نے مارا ہے؟ فلاں نے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس واقعہ سے غیر متعلق آدمی کا نام لیا، اس لیے اس نے اپنے سر کے اشارے سے کہا کہ نہیں۔ بیان کیا کہ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”فلاں نے تمہیں مارا ہے؟“ تو اس لڑکی نے سر کے اشارے سے ہاں کہا۔ (اس کے بعد اس یہودی نے بھی اس جرم کا اقرار کر لیا) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے لیے حکم دیا اور اس آدمی کا سر دو پتھروں کے درمیان کچلا گیا۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب القسامة/حدیث: 1087]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 68 كتاب الطلاق: 24 باب الإشارة في الطلاق والأمور»
الحكم على الحديث:
«صحیح»