اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
559. باب الصائل على نفس الإنسان أو عضوه إِذا دفعه المصول عليه فأتلف نفسه أو عضوه لا ضمان عليه
باب: جب کوئی کسی کی جان یا عضو پر حملہ کرے اور وہ اس کادفاع کرے اور مدافعت میں حملہ آور کی جان یا عضو کو نقصان پہنچے تو اس پر کوئی تاوان نہ ہو گا
حدیث نمبر: 1088
1088 صحيح حديث عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، أَنَّ رَجُلاً عَضَّ يَدَ رَجُل، فَنَزَعَ يَدَهُ مِنْ فَمِهِ فَوَقَعَتْ ثَنِيَّتَاهُ فَاخْتَصَمُوا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَعَضُّ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ كَمَا يَعَضُّ الْفَحْلُ لاَ دِيَةَ لَكَ
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ ایک شخص نے ایک شخص کے ہاتھ پر دانت سے کاٹا تو اس نے اپنا ہاتھ کاٹنے والے کے منہ میں سے کھینچ لیا جس سے اس (کاٹنے والے) کے آگے کے دو دانت ٹوٹ گئے، پھر دونوں اپنا جھگڑا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لائے تو آنسیدنا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «يَعَضُّ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ كَمَا يَعَضُّ الْفَحْلُ، لَا دِيَةَ لَهُ» ”تم اپنے ہی بھائی کو اس طرح دانت سے کاٹتے ہو جیسے اونٹ کاٹتا ہے، تمہیں دیت نہیں ملے گی۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب القسامة/حدیث: 1088]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 87 كتاب الديات: 8 باب إذا عض رجلاً فوقعت ثناياه»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
حدیث نمبر: 1089
1089 صحيح حديث يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ رضي الله عنه، قَالَ: غَزَوْتُ مَعَ النَبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَيْشَ الْعُسْرَةِ، فَكَانَ مِنْ أَوْثَقِ أَعْمَالِي فِي نَفْسِي، فَكَانَ لِي أَجِيرٌ، فَقَاتَلَ إِنْسَانًا، فَعَضَّ أَحَدُهُمَا إِصْبَعَ صَاحِبهِ، فَانْتَزَعَ إِصْبَعَهُ، فَأَنْدَرَ ثَنِيَّتَهُ فَسَقَطَتْ فَانْطَلَقَ إِلَى النَّبِىِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَهْدَرَ ثَنِيَّتَهُ، وَقَالَ: أَفَيَدَعُ إِصْبَعَهُ فِي فِيكَ تقْضَمُهَا قَالَ أَحْسِبُهُ قَالَ: كَمَا يَقْضَمُ الْفَحْلُ
سیدنا یعلیٰ بن امیہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جیشِ عسرہ (غزوۂ تبوک) میں گیا تھا، یہ میرے نزدیک میرا سب سے زیادہ قابلِ اعتماد نیک عمل تھا۔ میرے ساتھ ایک مزدور بھی تھا۔ وہ ایک شخص سے جھگڑا اور ان میں سے ایک نے دوسرے مقابل والے کی انگلی چبا ڈالی۔ دوسرے نے جو اپنا ہاتھ زور سے کھینچا تو اس کے آگے کے دانت بھی ساتھ ہی کھنچے چلے آئے اور گر گئے۔ اس پر وہ شخص اپنا مقدمہ لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پہنچا۔ آنسیدنا صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے دانت (ٹوٹنے کا) کوئی قصاص نہیں دلوایا، بلکہ فرمایا: ”کیا وہ اپنی انگلی تمہارے منہ میں چبانے کے لیے چھوڑ دیتا؟“ راوی نے کہا کہ میں خیال کرتا ہوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یوں بھی فرمایا: ”جس طرح اونٹ چبا لیا کرتا ہے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب القسامة/حدیث: 1089]
تخریج الحدیث: «صحیح، _x000D_ أخرجه البخاري في: 37 كتاب الإجارة: 5 باب الأجير في الغزو»
وضاحت: جیش العسرۃ سے مراد غزوہ تبوک ہے جو ۹ ہجری کو واقع ہوا اس غزوہ کے لیے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو شدید گرمی میں حکم دیا اور یہ پھلوں کے پکنے کا وقت تھا اس لیے ان پر مشکل اور دشوار گذرا۔ (مرتب)
الحكم على الحديث:
«صحیح»