🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

اللؤلؤ والمرجان میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1906)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

560. باب إثبات القصاص في الأسنان وما في معناها
باب: دانتوں اور اس طرح کے دیگر اعضاء میں قصاص کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1090
1090 صحيح حديث أَنَسٍ، قَالَ: كَسَرَتِ الرُّبيِّعُ، وَهِيَ عَمَّةُ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، ثَنِيَّةَ جَارِيَةٍ مِنَ الأَنْصَارِ، فَطَلَبَ الْقَوْمُ الْقِصَاصَ، فَأَتَوُا النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْقِصَاصِ؛ فَقَالَ أَنَسُ بْنُ النَّضْرِ، عَمُّ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ: لاَ وَاللهِ لاَ تُكْسَرُ سِنُّهَا يَا رَسُولَ اللهِ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا أَنَسُ كِتَابُ اللهِ الْقِصَاصُ فَرَضِيَ الْقَوْمُ وَقَبِلُوا الأَرْشَ؛ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ مِنْ عِبَادِ اللهِ مَنْ لَوْ أَقْسَمَ عَلَى اللهِ لأَبَرَّهُ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ سیدہ ربیع رضی اللہ عنہا نے، جو سیدنا انس رضی اللہ عنہ کی پھوپھی تھیں، انصار کی ایک لڑکی کے آگے کے دانت توڑ دیے۔ لڑکی والوں نے قصاص چاہا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی قصاص کا حکم دیا۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے چچا سیدنا انس بن نضر رضی اللہ عنہ نے کہا: نہیں، اللہ کی قسم! ان کا دانت نہیں توڑا جائے گا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے انس! «كِتَابُ اللَّهِ الْقِصَاصُ» ”کتاب اللہ کا حکم قصاص ہی کا ہے“۔“ پھر لڑکی والے معافی پر راضی ہو گئے اور دیت لینا منظور کر لیا۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «إِنَّ مِنْ عِبَادِ اللَّهِ مَنْ لَوْ أَقْسَمَ عَلَى اللَّهِ لَأَبَرَّهُ» ”اللہ کے بہت سے بندے ایسے ہیں کہ اگر وہ اللہ کا نام لے کر قسم کھا لیں تو اللہ ان کی قسم سچی کر دیتا ہے“۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب القسامة/حدیث: 1090]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 65 كتاب التفسير: 5 سورة المائدة: 6 باب قوله (والجروح قصاص»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں