اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
577. باب قضية هند
باب: ہند ابو سفیان کی بیوی کا فیصلہ
حدیث نمبر: 1115
1115 صحيح حديث عَائِشَةَ، أَنَّ هِنْدَ بِنْتَ عُتْبَةَ، قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّ أَبَا سُفْيَانَ رَجُلٌ شَحِيحٌ، وَلَيْسَ يُعْطِينِي مَا يَكْفِينِي وَوَلَدِي، إِلاَّ مَا أَخَذْتُ مِنْهُ وَهُوَ لاَ يَعْلَمُ فَقَالَ: خُذِي مَا يَكْفِيكِ وَوَلَدَكِ بِالْمَعْرُوفِ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا روایت کرتی ہیں کہ ہند بنت عتبہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ابوسفیان (ان کے شوہر) بخیل ہیں اور مجھے اتنا نہیں دیتے جو میرے اور میرے بچوں کے لیے کافی ہو سکے۔ ہاں، اگر میں ان کی لاعلمی میں ان کے مال میں سے لے لوں (تو کام چلتا ہے)۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم دستور کے موافق اتنا لے سکتی ہو جو تمہارے اور تمہارے بچوں کے لیے کافی ہو سکے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الأقضية/حدیث: 1115]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 69 كتاب النفقات: 9 باب إذا لم ينفق الرجل فللمرأة أن تأخذ بغير علمه ما يكفيها وولدها بالمعروف»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
حدیث نمبر: 1116
1116 صحيح حديث عَائِشَةَ، قَالَتْ: جَاءَتْ هِنْدُ بِنْتُ عُتْبَةَ، قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ مَا كَانَ عَلَى ظَهْرِ الأَرْضِ مِنْ أَهْلِ خِبَاءٍ، أَحَبُّ إِلَيَّ أَنْ يَذِلُّوا مِنْ أَهْلِ خِبَائِكَ، ثُمَّ مَا أَصْبَحَ الْيَوْمَ عَلَى ظَهْرِ الأَرْضِ أَهْلُ خِبَاءٍ أَحَبَّ إِلَيَّ أَنْ يَعِزُّوا مِنْ أَهْلِ خِبائِكَ، قَالَ: وَأَيْضًا وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّ أَبَا سُفْيَانَ رَجُلٌ مِسِّيكٌ، فَهَلْ عَلَيَّ حَرَجٌ أَنْ أُطْعِمَ مِنَ الَّذِي لَهُ عِيَالَنَا قَالَ: لاَ أُرَاهُ إِلاَّ بِالْمَعْرُوفِ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ سیدنا ہند بنت عتبہ رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں (اسلام لانے کے بعد) حاضر ہوئیں اور کہنے لگیں: یا رسول اللہ! روئے زمین پر کسی گھرانے کی ذلت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھرانے کی ذلت سے زیادہ میرے لیے خوشی کا باعث نہیں تھی، لیکن آج کسی گھرانے کی عزت روئے زمین پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھرانے کی عزت سے زیادہ میرے لیے خوشی کی وجہ نہیں ہے۔ آنسیدنا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس میں ابھی اور ترقی ہوگی، اس ذات کی قسم! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے۔“ پھر ہند رضی اللہ عنہا نے کہا: یا رسول اللہ! ابو سفیان رضی اللہ عنہ بہت بخیل ہیں، تو کیا اس میں کچھ حرج ہے اگر میں ان کے مال میں سے (ان کی اجازت کے بغیر) بال بچوں کو کھلا پلا دیا کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں، لیکن میں سمجھتا ہوں کہ یہ دستور کے مطابق ہونا چاہیے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الأقضية/حدیث: 1116]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 63 كتاب مناقب الأنصار: 23 باب ذكر هند بنت عتبة»
الحكم على الحديث:
«صحیح»