اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
590. باب جواز الخداع في الحرب
باب: لڑائی میں دشمن سے مکر اور حیلہ درست ہے
حدیث نمبر: 1134
1134 صحيح حديث جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الْحَرْبُ خُدْعَةٌ
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: «الْحَرْبُ خُدْعَةٌ» ”جنگ تو ایک چالبازی کا نام ہے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الجهاد/حدیث: 1134]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 56 كتاب الجهاد: 157 باب الحرب خدعة»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
حدیث نمبر: 1135
1135 صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه، قَالَ: سَمَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْحَرْبَ خُدْعَةً
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لڑائی ایک چال ہے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الجهاد/حدیث: 1135]
تخریج الحدیث: «صحیح، _x000D_ أخرجه البخاري في: كتاب الجهاد: 157 باب الحرب خدعة»
وضاحت: مطلب یہ کہ جو فریق جنگ میں چستی وچالاکی سے کام لے گا۔ جنگ کا پانسہ اس کے ہاتھ میں ہو گا۔ پس مسلمانوں کو ایسے موقعہ پر بہت زیادہ ہوشیاری کی ضرورت ہے۔ (راز)
الحكم على الحديث:
«صحیح»