اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
591. باب كراهة تمني لقاء العدوّ، والأمر بالصبر عند اللقاء
باب: جنگ کی آرزو کرنا مکروہ ہے اور جنگ کے وقت صبر کرنا لازم ہے
حدیث نمبر: 1136
1136 صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه، عَنِ النَبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لاَ تَمَنَّوْا لِقَاءَ الْعَدُوِّ، فَإِذَا لَقِيتُمُوهُمْ فَاصْبِرُوا
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دشمن سے لڑنے بھڑنے کی تمنا نہ کرو، ہاں! اگر جنگ شروع ہو ہی جائے تو پھر صبر سے کام لو۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الجهاد/حدیث: 1136]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 56 كتاب الجهاد: 156 باب لا تمنوا لقاء العدو»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
حدیث نمبر: 1137
1137 صحيح حديث عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى كَتَبَ إِلَى عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ، حِينَ خَرَجَ إِلَى الْحرُورِيَّةِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ أَيَّامِهِ الَّتِي لَقِيَ فِيهَا الْعَدُوَّ انْتَظَرَ حَتَّى مَالَتِ الشَّمْسُ، ثُمَّ قَامَ فِي النَّاسِ فَقَالَ: أَيُّهَا النَّاسُ لاَتَمَنَّوْا لِقَاءَ الْعَدُوِّ، وَسَلُوا اللهَ الْعَافِيَةَ، فَإِذَا لَقِيتُمُوهُمْ فَاصْبِرُوا، وَاعْلَمُوا أَنَّ الْجَنَّةَ تَحْتَ ظِلاَلِ السُّيُوفِ ثُمَّ قَالَ: اللهُمَّ مُنْزِلَ الْكِتَابِ، وَمُجْرِيَ السَّحَابِ، وَهَازِمَ الأَحْزَابِ اهْزِمْهُمْ وَانْصُرْنَا عَلَيْهِمْ
سیدنا عمر بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ جب خوارج سے لڑنے کے لیے حروریہ کی طرف روانہ ہوئے تو انہیں عبداللہ بن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہما کا خط ملا، اس میں انہوں نے لکھا تھا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لڑائی کے موقع پر انتظار کیا، پھر جب سورج ڈھل گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا: ”اے لوگو! دشمن سے لڑائی بھڑائی کی تمنا نہ کرو، بلکہ اللہ تعالیٰ سے سلامتی مانگو، ہاں! جب جنگ چھڑ جائے تو پھر صبر کیے رہو اور ڈٹ کر مقابلہ کرو اور جان لو کہ جنت تلواروں کے سائے میں ہے۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یوں دعا کی: «اللَّهُمَّ مُنْزِلَ الْكِتَابِ، وَمُجْرِيَ السَّحَابِ، وَهَازِمَ الْأَحْزَابِ، اهْزِمْهُمْ وَانْصُرْنَا عَلَيْهِمْ» ”اے اللہ! کتاب (قرآن) کے نازل فرمانے والے، اے بادلوں کے چلانے والے، اے احزاب (یعنی کافروں کی جماعتوں کو غزوۂ خندق کے موقع پر) شکست دینے والے! ہمارے دشمن کو شکست دے اور ان کے مقابلے میں ہماری مدد کر۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الجهاد/حدیث: 1137]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 56 كتاب الجهاد: 156 باب لا تمنوا لقاء العدو»
الحكم على الحديث:
«صحیح»