اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
607. باب في غزوة حنين
باب: غزوۂ حنین کا بیان
حدیث نمبر: 1163
1163 صحيح حديث الْبَرَاءِ، وَسَأَلَهُ رَجُلٌ: أَكُنْتُمْ فَرَرْتُمْ يَا أَبَا عُمَارَةَ يَوْمَ حُنَيْنٍ قَالَ: لاَ، وَاللهِ مَا وَلَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلكِنَّهُ خَرَجَ شُبَّانُ أَصْحَابِهِ وَأَخِفَّاؤُهُمْ حُسَّرًا لَيْسَ بِسِلاَحٍ، فَأَتَوْا قَوْمًا رُمَاةً، جَمْعَ هَوَازِنَ وَبَنِي نَصْرٍ، مَا يَكَادُ يَسْقُطُ لَهُمْ سَهْمٌ، فَرَشَقُوهُمْ رَشْقًا مَا يَكَادُونَ يُخْطِئُون فَأَقْبَلُوا هُنَالِكَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهُوَ عَلَى بَغْلَتِهِ الْبَيْضَاءِ وَابْنُ عَمِّهِ، أَبُو سُفْيَانَ بْنُ الْحارِثِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ يَقُودُ بِهِ؛ فَنَزَلَ وَاسْتَنْصَرَ؛ ثُمَّ قَالَ: أَنَا النَّبِيُّ لاَ كَذِبْ أَنَا ابْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبْ ثُمَّ صَفَّ أَصْحَابَهُ
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے ایک صاحب نے پوچھا کہ اے ابوعمارہ! کیا آپ لوگوں نے حنین کی لڑائی میں فرار اختیار کیا تھا؟ سیدنا براء رضی اللہ عنہ نے کہا کہ نہیں، خدا کی قسم! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (جو لشکر کے قائد تھے) پشت ہرگز نہیں پھیری تھی۔ البتہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں جو نوجوان بے سروسامان تھے جن کے پاس نہ زرہ تھی، نہ خود اور کوئی ہتھیار بھی نہیں لے گئے تھے، انہوں نے ضرور میدان چھوڑ دیا تھا کیونکہ مقابلہ میں ہوازن اور بنو نصر کے بہترین تیر انداز تھے کہ کم ہی ان کا کوئی تیر خطا جاتا۔ چنانچہ انہوں نے خوب تیر برسائے اور شاید ہی کوئی نشانہ ان کا خطا ہوا ہو (اس دوران میں مسلمان) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر جمع ہو گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے سفید خچر پر سوار تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچیرے بھائی ابوسفیان بن حارث بن عبدالمطلب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری کی لگام تھامے ہوئے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سواری سے اتر کر اللہ تعالیٰ سے مدد کی دعا مانگی، پھر فرمایا: «أَنَا النَّبِيُّ لَا كَذِبْ، أَنَا ابْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبْ» ”میں نبی ہوں اس میں غلط بیانی کا کوئی شائبہ نہیں، میں عبدالمطلب کی اولاد ہوں۔“ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب کی (نئے طریقے پر) صف بندی کی۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الجهاد/حدیث: 1163]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 56 كتاب الجهاد: 97 باب من صف أصحابه عند الهزيمة ونزل عن دابته واستنصر»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
حدیث نمبر: 1164
1164 صحيح حديث الْبَرَاءِ، وَسَأَلَهُ رَجُلٌ مِنَ قَيْسٍ: أَفَرَرْتُمْ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ حُنَيْنٍ فَقَالَ: لكِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَفِرَّ كَانَتْ هَوازِنُ رُمَاةً، وَإِنَّا لَمَّا حَمَلْنَا عَلَيْهِمْ انْكَشَفُوا فَأَكْبَبْنَا عَلَى الْغَنائِمِ، فَاسْتُقْبِلْنَا بِالسِّهَامِ وَلَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى بَغْلَتِهِ الْبَيْضَاءَ، وَإِنَّ أَبَا سُفْيَانَ آخِذٌ بِزَمَامِهَا، وَهُوَ يَقُولُ: أَنَا النَّبِيُّ لا كَذِبْ
سیدنا براء رضی اللہ عنہ سے قبیلہ قیس کے ایک آدمی نے پوچھا کہ کیا تم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو غزوۂ حنین میں چھوڑ کر بھاگ نکلے تھے؟ سیدنا براء رضی اللہ عنہ نے کہا: لیکن حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی جگہ سے نہیں ہٹے تھے، قبیلہ ہوازن کے لوگ تیر انداز تھے، جب ان پر ہم نے حملہ کیا تو وہ پسپا ہو گئے، پھر ہم لوگ مال غنیمت میں لگ گئے، آخر ہمیں ان کے تیروں کا سامنا کرنا پڑا۔ میں نے خود دیکھا تھا کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے سفید خچر پر سوار تھے اور سیدنا ابو سفیان رضی اللہ عنہ اس کی لگام تھامے ہوئے تھے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: «أَنَا النَّبِيُّ لَا كَذِبْ» ”میں نبی ہوں، اس میں جھوٹ نہیں“۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الجهاد/حدیث: 1164]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 64 كتاب المغازي: 54 باب قول الله تعالى (ويوم حنين إذ أعجبتكم كثرتكم»
الحكم على الحديث:
«صحیح»