اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
608. باب غزوة الطائف
باب: غزوۂ طائف کا بیان
حدیث نمبر: 1165
1165 صحيح حديث عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمْرِو، قَالَ: لَمَّا حَاصَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الطَّائِفَ فَلَمْ يَنَلْ مِنْهُمْ شَيْئًا، قَالَ: إِنَّا قَافِلُونَ إِنْ شَاءَ اللهُ فَثَقُلَ عَلَيْهِمْ، وَقَالُوا: نَذْهَبُ وَلاَ نَفْتَحُهُ وَقَالَ مَرَّةً، نَقْفُلُ فَقَالَ: اغْدُوا عَلَى الْقِتَالِ فَغَدَوْا، فَأَصَابَهُمْ جِرَاحٌ فَقَالَ: إِنَّا قَافِلُونَ غَدًا إِنْ شَاءَ اللهُ فَأَعْجَبَهُمْ فَضَحِكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے طائف کا محاصرہ کیا تو دشمن کا کچھ بھی نقصان نہیں کیا، آخر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اب ان شاء اللہ ہم واپس ہو جائیں گے۔“ مسلمانوں کے لیے ناکام لوٹنا بڑا شاق گزرا، انہوں نے کہا کہ واہ بغیر فتح کے ہم واپس چلے جائیں (راوی نے ایک مرتبہ «نَذْهَبُ» ”ہم جائیں“ کے بجائے «نَقْفُلُ» ”ہم لوٹیں“ کا لفظ استعمال کیا یعنی ہم لوٹ جائیں اور طائف کو فتح نہ کریں)، اس پر آنسیدنا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر صبح سویرے میدان میں جنگ کے لیے آ جاؤ۔“ صحابہ صبح سویرے ہی آ گئے، لیکن ان کی بڑی تعداد زخمی ہو گئی، اب پھر آنسیدنا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان شاء اللہ ہم کل واپس چلیں گے۔“ صحابہ نے اسے بہت پسند کیا، آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم اس پر ہنس پڑے۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الجهاد/حدیث: 1165]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 64 كتاب المغازي: 56 باب غزوة الطائف»
الحكم على الحديث:
«صحیح»