🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

اللؤلؤ والمرجان میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1906)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

610. باب صلح الحديبية في الحديبية
باب: صلح حدیبیہ کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1167
1167 صحيح حديث الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، قَالَ: لَمَّا صَالَحَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَهْلَ الْحُدَيْبِيَةِ، كَتَبَ عَلِيٌّ بَيْنَهُمْ كِتَابًا، فَكَتَبَ: مُحَمَّدٌّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ الْمُشْرِكُونَ: لاَ تَكْتُبْ مُحَمَّدٌ رَسُول اللهِ، لَوْ كُنْتَ رَسُولاً لَمْ نُقَاتِلْكَ، فَقَالَ لِعَلِيٍّ: امْحُهُ فَقَالَ عَلِيٌّ: مَا أَنَا بِالَّذِي أَمْحَاهُ فَمَحَاهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ، وَصَالَحَهُمْ عَلَى أَنْ يَدْخُلَ هُوَ وَأَصْحَابُهُ ثَلاَثَةَ أَيَّامٍ، وَلاَ يَدْخُلُوهَا إِلاَّ بِجُلُبَّانِ السِّلاَحِ فَسَأَلُوهُ: مَا جُلُبَّانُ السِّلاَحِ فَقَالَ: الْقِرَابُ بِمَا فِيهِ
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیبیہ کی صلح (قریش سے) کی تو اس کی دستاویز سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے لکھی تھی۔ انہوں نے اس میں لکھا محمد اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے۔ مشرکین نے اس پر اعتراض کیا کہ لفظ محمد کے ساتھ رسول اللہ نہ لکھو، اگر آپ رسول اللہ ہوتے تو ہم آپ سے لڑتے ہی کیوں؟ آنسیدنا صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”رسول اللہ کا لفظ مٹا دو۔“ علی رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں تو اسے نہیں مٹا سکتا تو آنسیدنا صلی اللہ علیہ وسلم نے خود اپنے ہاتھ سے مٹا دیا اور مشرکین کے ساتھ اس شرط پر صلح کی کہ آپ اپنے اصحاب کے ساتھ آئندہ سال تین دن کے لیے مکہ آئیں اور ہتھیار میان میں رکھ کر داخل ہوں، سیدنا براء رضی اللہ عنہ سے ان کے شاگردوں نے پوچھا کہ «جُلُبَانُ السِّلَاحِ» جس کا یہاں ذکر کیا ہے کیا چیز ہوتی ہے؟ تو انہوں نے بتایا کہ ”میان اور جو چیز اس کے اندر ہوتی ہے اس کا نام جلبان ہے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الجهاد/حدیث: 1167]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 53 كتاب الصلح: 6 باب كيف يكتب هذا ما صالح فلان بن فلان»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1168
1168 صحيح حديث سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ عَنْ أَبِي وَائِلٍ، قَالَ: كُنَّا بِصِفِّينَ، فَقَامَ سَهْلُ بْنُ حُنَيْفٍ، فَقَالَ: أَيُّهَا النَّاسُ اتَّهِمُوا أَنْفُسَكُمْ، فَإِنَّا كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الحُدَيْبِيَةِ وَلَوْ نَرَى قِتَالاً لَقَاتَلْنَا، فَجَاءَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ أَلَسْنَا عَلَى الْحَقِّ وَهُمْ عَلَى الْبَاطِلِ فَقَالَ: بَلَى فَقَالَ: أَلَيْسَ قَتْلاَنَا فِي الْجَنَّةِ وَقَتْلاَهُمْ فِي النَّارِ قَالَ: بَلَى قَالَ: فَعَلَى مَا نُعْطِي الدَّنِيَّةَ فِي دِينِنَا أَنَرْجِعُ وَلَمَّا يَحْكُمِ اللهُ بَيْنَنَا وَبَيْنَهُمْ فَقَالَ: ابْنَ الْخطَّابِ إِنِّي رَسُولُ اللهِ وَلَنْ يُضَيِّعَنِي الله أَبَدًا فَانْطَلَقَ عُمَرُ إِلَى أَبِي بَكْرٍ، فَقَالَ لَهُ مِثْلَ مَا قَالَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؛ فَقَالَ: إِنَّهُ رَسُولُ اللهِ وَلَنْ يُضَيِّعَهُ اللهُ أَبَدًا فَنَزَلَتْ سُورَةُ الْفَتْحِ، فَقَرَأَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى عُمَرَ إِلَى آخِرِهَا فَقَالَ عُمَرُ: يَا رَسُولَ اللهِ أَو فَتْحٌ هُوَ قَالَ: نَعَمْ
سیدنا ابو وائل رحمہ اللہ نے بیان کیا کہ ہم مقام صفین میں ڈیرے ڈالے ہوئے تھے، پھر سیدنا سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور فرمایا: اے لوگو! تم خود اپنی رائے کو غلط سمجھو، ہم صلح حدیبیہ کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، اگر ہمیں لڑنا ہوتا تو اس وقت ضرور لڑتے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اس موقع پر آئے (یعنی حدیبیہ میں) اور عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا ہم حق پر اور وہ باطل پر نہیں ہیں؟ آنسیدنا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیوں نہیں!“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا ہمارے مقتول جنت میں اور ان کے مقتول جہنم میں نہیں جائیں گے؟ آنسیدنا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیوں نہیں!“ پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ ہم اپنے دین کے معاملے میں پھر کیوں دبیں؟ کیا ہم (مدینہ) واپس چلے جائیں گے اور ہمارے اور ان کے درمیان اللہ کوئی فیصلہ نہیں کرے گا؟ آنسیدنا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابن خطاب! میں اللہ کا رسول ہوں اور اللہ مجھے کبھی برباد نہیں کرے گا۔“ اس کے بعد سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس گئے اور ان سے وہی سوالات کیے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ابھی کر چکے تھے، انہوں نے بھی یہی کہا کہ آنسیدنا صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں اور اللہ انہیں کبھی برباد نہیں ہونے دے گا۔ پھر سورۂ فتح نازل ہوئی اور آنسیدنا صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو اسے آخر تک پڑھ کر سنایا، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: کیا یہی فتح ہے؟ آنسیدنا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں! بلا شک یہی فتح ہے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الجهاد/حدیث: 1168]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 58 كتاب الجزية: 18 باب حدثنا عبدان»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں