اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
611. باب غزوة أحد
باب: غزوۂ احد کا بیان
حدیث نمبر: 1169
1169 صحيح حديث سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ رضي الله عنه، أَنَّهُ سُئِلَ عَنْ جُرْحِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ أُحُدٍ فَقَالَ: جُرِحَ وَجْهُ النَبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكُسِرَتْ رَبَاعِيَتُهُ، وَهُشِمَتِ الْبَيْضَةُ عَلَى رَأْسِهِ؛ فَكَانَتْ فَاطِمَةُ، عَلَيْهَا السَّلاَمُ، تَغْسِلُ الدَّمَ، وَعَلِيٌّ يُمْسِكُ؛ فَلَمَّا رَأَتْ أَنَّ الدَّمَ لاَ يَزِيدُ إِلاَّ كَثْرَةَ، أَخَذَتْ حَصِيرًا فَأَحْرَقَتْهُ حَتَّى صَارَ رَمَادًا، ثُمَّ أَلْزَقَتْهُ، فَاسْتَمْسَكَ الدَّمُ
سیدنا سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ سے احد کی لڑائی میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زخمی ہونے کے متعلق پوچھا گیا تو انہوں نے بتایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک پر زخم آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے کے دانت ٹوٹ گئے تھے اور خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر مبارک پر ٹوٹ گئی تھی، (جس سے سر پر زخم آئے تھے)۔ سیدنا فاطمہ رضی اللہ عنہا خون دھو رہی تھیں اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ پانی ڈال رہے تھے۔ جب سیدنا فاطمہ رضی اللہ عنہا نے دیکھا کہ خون برابر بڑھتا ہی جا رہا ہے تو انہوں نے ایک چٹائی جلائی اور اس کی راکھ کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے زخموں پر لگا دیا جس سے خون بہنا بند ہو گیا۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الجهاد/حدیث: 1169]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 56 كتاب الجهاد: 85 باب لُبس البيضة»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
حدیث نمبر: 1170
1170 صحيح حديث عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَحْكِي نَبِيًّا مِنَ الأَنْبِيَاءِ، ضَرَبَهُ قَوْمُهُ فَأَدْمَوْهُ، وَهُوَ يَمْسَحُ الدَّمَ عَنْ وَجْهِهِ وَيَقُولُ: (اللهُمَّ اغْفِرْ لِقَوْمِي فَإِنَّهُمْ لاَ يَعْلَمُونَ)
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا، گویا میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس وقت دیکھ رہا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم بنی اسرائیل کے ایک نبی کا واقعہ بیان کر رہے تھے کہ ”ان کی قوم نے انہیں مارا اور خون آلود کر دیا، لیکن وہ نبی خون صاف کرتے جاتے اور یہ دعا کرتے: «اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِقَوْمِي فَإِنَّهُمْ لَا يَعْلَمُونَ» ”اے اللہ! میری قوم کی مغفرت فرما، یہ لوگ جانتے نہیں ہیں۔““ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الجهاد/حدیث: 1170]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 60 كتاب الأنبياء: 54 باب حدثنا أبو اليمان»
الحكم على الحديث:
«صحیح»