🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

اللؤلؤ والمرجان میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1906)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

621. باب عدد غزوات النبيّ ﷺ
باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے غزوات کی تعداد
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1188
1188 صحيح حديث عَبْدِ اللهِ بْنِ يَزِيدَ الأَنْصَارِيِّ، أَنَّهُ خَرَجَ، وَخَرَجَ مَعَهُ الْبَرَاءُ بْنُ عَازِبٍ وَزَيْدُ بْنُ أَرْقَمَ، فَاسْتَسْقَى، فَقَامَ بِهِمْ عَلَى رِجْلَيْهِ، عَلَى غَيْرِ مِنْبَرٍ، فَاسْتَغْفَرَ ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ، يَجْهَرُ بِالْقِرَاءَةِ، وَلَمْ يُؤَذِّنْ وَلَمْ يُقِمْ
سیدنا عبداللہ بن یزید انصاری رضی اللہ عنہ استسقاء کے لیے باہر نکلے، ان کے ساتھ براء بن عازب اور زید بن ارقم رضی اللہ عنہما بھی تھے، انہوں نے پانی کے لیے دعا کی تو پاؤں پر کھڑے رہے، منبر نہ تھا، اسی طرح آپ نے دعا کی پھر دو رکعت نماز پڑھی جس میں قرأت بلند آواز سے کی، نہ اذان کہی اور نہ اقامت۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الجهاد/حدیث: 1188]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 15 كتاب الاستسقاء: 15 باب الدعاء في الاستسقاء قائمًا»
وضاحت: راوي حدیث:… حضرت عبداللہ بن یزید انصاری قبیلہ اوس سے تعلق رکھتے تھے۔ آپ کی کنیت ابو موسیٰ انصاری تھی۔ بیعت رضوان میں شریک تھے۔ ابن زبیر کی طرف سے مکہ کے والی رہے، پھر کوفہ کی امارت سنبھالی اور وہیں ۸۰ سال کی عمر پا کر ۷۰ ہجری سے قبل وفات پا گئے۔

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1189
1189 صحيح حديث زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ عَنْ أَبِي إِسْحقَ، قَالَ: كُنْتُ إِلَى جَنْبِ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، فَقِيلَ لَهُ: كَمْ غَزَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ غَزْوَةٍ قَالَ: تِسْعَ عَشْرَةَ قِيلَ: كَمْ غَزَوْتَ أَنْتَ مَعَهُ قَالَ: سَبْعَ عَشْرَةَ، قُلْتُ: فَأَيُّهُمْ كَانَتْ أَوَّلَ قَالَ: الْعُسَيْرَةُ أَوِ الْعُشَيْرُ
سیدنا ابو اسحاق کہتے ہیں کہ میں سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کے پہلو میں بیٹھا ہوا تھا، ان سے پوچھا گیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کتنے غزوے کیے؟ انہوں نے کہا: انیس۔ میں نے پوچھا: آپ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کتنے غزوات میں شریک رہے؟ تو انہوں نے کہا کہ سترہ میں۔ میں نے پوچھا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا سب سے پہلا غزوہ کون سا تھا؟ کہا کہ «عَسِيْرَةَ» ”عسیرہ“ یا «عُشَيْرَةَ» ”عشیرہ“ (ابواسحاق کہتے ہیں) پھر میں نے اس کا ذکر قتادہ سے کیا تو انہوں نے کہا کہ (صحیح لفظ) «عُشَيْرَةَ» ”عشیرہ“ ہے۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الجهاد/حدیث: 1189]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 64 كتاب المغازي: 1 باب غزوة العشيرة أو العسيرة»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1190
1190 صحيح حديث بُرَيْدَةَ، أَنَّهُ غَزَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سِتَّ عَشْرَةَ غَزْوَة
سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سولہ غزوات میں شریک تھے۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الجهاد/حدیث: 1190]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 64 كتاب المغازي: 89 باب كم غزا النبي صلي الله عليه وسلم»
وضاحت: راوي حدیث:… حضرت بریدہ بن الحصیب رضی اللہ عنہ کی کنیتیں ابو عبداللہ، ابو سہل، ابو ساسان اور ابو الحصیب اسلمی تھیں۔ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہجرت کے سفر میں عمیم مقام پر آپ کے پاس سے گذرے تو آپ نے اسلام قبول کیا اور یہاں ہی ٹھہرے رہے اور احد کے بعد تشریف لائے اور غزوہ خیبر اور فتح مکہ میں شریک ہوئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اپنی قوم سے زکوٰۃ کی وصولی پر مقرر کیا تھا۔ صحیحین میں موجود ہے کہ انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سولہ غزوے کیے۔ حدیث کی ایک بڑی تعداد کے راوی ہیں۔ یزید بن معاویہ کی خلافت میں ۶۳ ہجری کو وفات پائی۔

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1191
1191 صحيح حديث سَلَمَةَ بْنِ الأَكْوَعِ، قَالَ: غَزَوْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبْعَ غَزَوَاتٍ، وَخَرَجْتُ فِيمَا يَبْعَثُ مِنَ الْبُعُوثِ تِسْعَ غَزَوَاتٍ: مَرَّةً عَلَيْنَا أَبُو بَكْرٍ، وَمَرَّةً عَلَيْنَا أُسَامَةُ
سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ سات غزووں میں شریک رہا ہوں اور نو ایسے لشکروں میں شریک ہوا ہوں جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے روانہ کیے تھے (مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم خود ان میں نہیں گئے)، کبھی ہم پر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ امیر ہوئے اور کسی فوج کے امیر سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ ہوئے۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الجهاد/حدیث: 1191]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 64 كتاب المغازي: 45 باب بعث النبي صلی اللہ علیہ وسلم أسامة بن زبد إلى الحرقات من جهينة»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں