اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
622. باب غزوة ذات الرقاع
باب: غزوۂ ذات الرقاع کا بیان
حدیث نمبر: 1192
1192 صحيح حديث أَبِي مُوسى رضي الله عنه، قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزَاةٍ، وَنَحْنُ سِتَّةُ نَفَرٍ، بَيْنَنَا بَعِيرٌ نَعْتَقِبُهُ، فَنَقِبَتْ أَقْدَامُنَا، وَنَقِبَتْ قَدَمَايَ، وَسَقَطَتْ أَظْفَارِي، وَكنَّا نَلُفُّ عَلَى أَرْجُلِنَا الْخِرَقَ، فَسُمِّيَتْ غَزْوَةَ ذَاتِ الرِّقَاعِ، لِمَا كُنَّا نَعْصِبُ مِنَ الْخِرَقِ عَلَى أَرْجُلِنَا وَحَدَّثَ أَبُو مُوسى بِهذَا، ثُمَّ كَرِهَ ذَاكَ، قَالَ: مَا كُنْتُ أَصْنَعُ بِأَنْ أَذْكُرَهُ كَأَنَّهُ كَرِهَ أَنْ يَكُونَ شَيْءٌ مِنْ عَمَلِهِ أَفْشَاهُ
سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک غزوے کے لیے نکلے۔ ہم چھ ساتھی تھے اور ہم سب کے لیے صرف ایک اونٹ تھا جس پر باری باری ہم سوار ہوتے تھے (پیدل طویل اور پرمشقت سفر کی وجہ سے) ہمارے پاؤں پھٹ گئے، میرے بھی پاؤں پھٹ گئے تھے اور ناخن بھی جھڑ گئے تھے، چنانچہ ہم قدموں پر کپڑے کی پٹیاں باندھ باندھ کر چل رہے تھے۔ اسی لیے اس کا نام «غَزْوَةُ ذَاتِ الرِّقَاعِ» ”پٹیوں والا غزوہ“ پڑا کیونکہ ہم نے قدموں کو پٹیوں سے باندھا تھا۔ سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے یہ حدیث تو بیان کر دی لیکن پھر انہیں اس کا اظہار اچھا معلوم نہیں ہوا۔ وہ فرمانے لگے کہ مجھے یہ حدیث بیان نہیں کرنی چاہیے تھی، انہیں اپنا نیک عمل ظاہر کرنا برا معلوم ہوا۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الجهاد/حدیث: 1192]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 64 كتاب المغازي: 31 باب غزوة ذات الرقاع»
الحكم على الحديث:
«صحیح»