اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
675. باب بيان أن كل مسكر خمر وأن كل خمر حرام
باب: ہر نشہ آور چیز خمر ہے اور ہر خمر حرام ہے
حدیث نمبر: 1301
1301 صحيح حديث عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: كُلُّ شَرَابٍ أَسْكَرَ فَهُوَ حَرَامٌ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پینے کی ہر وہ چیز جو نشہ لانے والی ہو، حرام ہے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الأشربة/حدیث: 1301]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 4 كتاب الوضوء: 71 باب لا يجوز الوضوء بالنبيذ ولا المسكر»
وضاحت: یہ حدیث دلیل ہے کہ خمر (شراب) تھوڑی ہو یا زیادہ مطلقاً حرام ہے، نشہ دے یا نہ دے۔ لیکن اس کے علاوہ باقی پینے کی اشیاء جب نشہ دیں تو حرام قرار پاتی ہیں۔ (مرتب)
الحكم على الحديث:
«صحیح»
حدیث نمبر: 1302
1302 صحيح حديث أَبِي مُوسى وَمُعَاذٍ بَعَثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَبَا مُوسى وَمُعَاذًا إِلَى الْيَمَنِ، فَقَالَ: يَسِّرَا وَلاَ تُعَسِّرَا، وَبَشِّرَا وَلاَ تُنَفِّرَا، وَتَطَاوَعَا فَقَالَ أَبُو مُوسى: يَا نَبِيَّ اللهِ إِنَّ أَرْضَنَا بِهَا شَرَابٌ مِنَ الشَّعِيرِ، الْمِزْرُ؛ وَشَرَابٌ مِنَ الْعَسَلِ، الْبِتْعُ فَقَالَ: كُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ
سیدنا سعید بن ابی بردہ اپنے والد سے بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے دادا سیدنا ابو موسیٰ اور معاذ بن جبل رضی اللہ عنہما کو یمن کا حاکم بنا کر بھیجا اور فرمایا: ”لوگوں کے لیے آسانی پیدا کرنا، ان کو دشواریوں میں نہ ڈالنا، لوگوں کو خوش خبریاں دینا، دین سے نفرت نہ دلانا اور تم دونوں آپس میں موافقت رکھنا۔“ اس پر سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اے اللہ کے نبی! ہمارے ملک میں جو سے ایک شراب تیار ہوتی ہے جس کا نام «الْمِزْرُ» ”المزر“ ہے اور شہد سے ایک شراب تیار ہوتی ہے جو «الْبِتْعُ» ”البتع“ کہلاتی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر نشہ لانے والی چیز حرام ہے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الأشربة/حدیث: 1302]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 64 كتاب المغازي: 60 باب بعث أبي موسى ومعاذ إلى اليمن قبل حجة الوداع»
الحكم على الحديث:
«صحیح»