🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

اللؤلؤ والمرجان میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1906)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

674. باب النهي عن الانتباذ في المزفت والدباء والحنتم والنقير وبيان أنه منسوخ وأنه اليوم حلال ما لم يصر مسكرًا
باب: مرتبان، تونبے، سبز لاکھی برتن اور لکڑی کے برتن میں نبیذ بنانے کی ممانعت اور اس کی منسوخی کا بیان اور اب اگر یہ برتن نشہ آور نہ ہوں تو ان کا استعمال درست ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1296
1296 صحيح حديث أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لاَ تَنْتَبِذُوا فِي الدُّبَّاءِ وَلاَ فِي الْمُزَفَّتِ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «الدُّبَّاءِ» اور «الْمُزَفَّتِ» میں نبیذ نہ بنایا کرو۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الأشربة/حدیث: 1296]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 74 كتاب الأشربة: 4 باب الخمر من العسل وهو البتع»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1297
1297 صحيح حديث عَلِيٍّ رضي الله عنه، قَالَ: نَهى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنِ الدُّبَّاءِ وَالْمُزَفَّتِ
سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ” «الدُّبَّاءُ» ”دباء“ اور «الْمُزَفَّتُ» ”مزفت“ (خاص قسم کے برتن جن میں شراب بھی بنتی تھی) کے استعمال کی بھی ممانعت کر دی تھی“۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الأشربة/حدیث: 1297]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 74 كتاب الأشربة: 8 باب ترخيص النبي صلی اللہ علیہ وسلم في الأوعية والظروف بعد النهي»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1298
1298 صحيح حديث عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قُلْتُ لِلأَسْوَدِ: هَلْ سَأَلْتَ عَائِشَةَ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ عَمَّا يُكْرَهُ أَنْ يُنْتَبَذَ فِيهِ فَقَالَ: نَعَمْ، قُلْتُ يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ عَمَّا نَهى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُنْتَبَذَ فِيهِ قَالَتْ: نَهَانَا فِي ذَلِكَ، أَهْلَ الْبَيْتِ، أَنْ نَنْتَبِذَ فِي الدُّبَّاءِ وَالْمُزَفَّتِ قُلْتُ: أَمَا ذَكَرَتِ الْجَرَّ وَالْحَنْتَمَ قَالَ: إِنَّمَا أُحَدِّثُكَ مَا سَمِعْتُ؛ أُحَدِّثُ مَا لَمْ أَسْمَعْ
ابراہیم نخعی نے بیان کیا کہ میں نے اسود بن یزید سے پوچھا: کیا تم نے ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا تھا کہ کس برتن میں نبیذ (کھجور کا میٹھا شربت) بنانا مکروہ ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں، میں نے عرض کیا: اے ام المومنین! کس برتن میں آنسیدنا صلی اللہ علیہ وسلم نے نبیذ بنانے سے منع فرمایا تھا؟ انہوں نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خاص گھر والوں (اہل بیت) کو کدو کی تونبی اور لاکھی برتن میں نبیذ بھگونے سے منع فرمایا تھا۔ (ابراہیم نخعی نے بیان کیا کہ) میں نے اسود سے پوچھا: کیا انہوں نے گھڑے اور سبز مرتبان کا ذکر نہیں کیا؟ انہوں نے کہا کہ میں تم سے وہی بیان کرتا ہوں جو میں نے سنا، کیا میں وہ بھی بیان کر دوں جو میں نے نہ سنا ہو؟ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الأشربة/حدیث: 1298]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 74 كتاب الأشربة: 8 باب ترخيص النبي صلی اللہ علیہ وسلم في الأوعية والظروف بعد النهي»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1299
1299 صحيح حديث ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: وَأَنْهَاكُمْ عَنِ الدُّبَّاءِ والْحَنْتَمِ وَالنَّقِيرِ وَالْمُزَفَّتِ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اور میں تمہیں «الدُّبَّاءِ» ”کدو کے تونبی“، «الْحَنْتَمِ» ”حنتم“، «النَّقِيرِ» ”نقیر“ اور «الْمُزَفَّتِ» ”زفت لگے ہوئے برتن“ کے استعمال سے منع کرتا ہوں۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الأشربة/حدیث: 1299]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 24 كتاب الزكاة: 1 باب وجوب الزكاة»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1300
1300 صحيح حديث عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرو، قَالَ: لَمَّا نَهى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنِ الأَسْقِيَةِ، قِيلَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَيْسَ كُلُّ النَّاسِ يَجِدُ سِقَاءً فَرَخَّصَ لَهُمْ فِي الْجَرِّ غَيْرِ الْمُزَفَّتِ
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما نے روایت کیا کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مشکوں کے سوا اور برتنوں میں نبیذ بھگونے سے منع فرمایا تو لوگوں نے آپ سے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہر کسی کو مشک کہاں سے مل سکتی ہے؟ اس وقت آپ نے بن لاکھ لگے گھڑے میں نبیذ بھگونے کی اجازت دے دی۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الأشربة/حدیث: 1300]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 74 كتاب الأشربة: 8 باب ترخيص النبي صلی اللہ علیہ وسلم في الأوعية والظروف بعد النهي»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں