🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

اللؤلؤ والمرجان میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1906)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

678. باب جواز شرب اللبن
باب: دودھ پینے کا جواز
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1307
1307 صحيح حديث أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ عَنْ أَبِي إِسْحقَ، قَالَ: سَمِعْتُ الْبَرَاءَ رضي الله عنه، قَالَ: لَمَّا أَقْبَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِلَى الْمَدِينَةِ، تَبَعَهُ سُرَاقَةُ بْنُ مَالِكِ بْنِ جُعْشُمِ، فَدَعَا عَلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَاخَتْ بِهِ فَرَسُهُ قَالَ: ادْعُ اللهَ لِي وَلاَ أَضُرُّكَ، فَدَعَا لَهُ قَالَ فَعَطِشَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَمَرَّ بِرَاعٍ قَالَ أَبُو بَكْرٍ: فَأَخَذْتُ قَدَحًا فَحَلَبْتُ فِيهِ كُثْبَةً مِنْ لَبَنٍ، فَأَتَيْتُهُ فَشَرِبَ حَتَّى رَضِيتُ
ابواسحاق روایت کرتے ہیں کہ میں نے سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہما کو فرماتے ہوئے سنا کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ کے لیے روانہ ہوئے تو سراقہ بن مالک بن جعشم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا پیچھا کیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے لیے بددعا کی تو اس کا گھوڑا زمین میں دھنس گیا، اس نے عرض کی کہ میرے لیے اللہ سے دعا کیجیے (کہ اس مصیبت سے نجات دے) میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی نقصان نہیں کروں گا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے لیے دعا کی (اس کا گھوڑا زمین سے نکل آیا) سیدنا براء رضی اللہ عنہما نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک مرتبہ راستے میں پیاس معلوم ہوئی، اتنے میں ایک چرواہا گزرا، ابوبکر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ پھر میں نے ایک پیالہ لیا اور اس میں (ریوڑ کی ایک بکری) کا تھوڑا سا دودھ دوہا، وہ دودھ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لا کر پیش کیا جسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نوش فرمایا، حتی کہ مجھے خوشی حاصل ہوئی۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الأشربة/حدیث: 1307]
تخریج الحدیث: «صحیح، _x000D_ أخرجه البخاري في: 63 كتاب مناقب الأنصار: 45 باب هجرة النبي صلی اللہ علیہ وسلم وأصحابه إلى المدينة»
وضاحت: راوي حدیث:… پہلے خلیفہ راشد امیر المومنین حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا اصل نام عبداللہ بن ابی قحافہ تھا۔ مردوں میں سب سے پہلے آپ نے اسلام قبول کیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہجرت کے سفر کے ساتھی تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کی وفات کے بعد فتنہ ارتداد کا مقابلہ بڑی پا مردی اور استقلال سے کیا اور اسلامی ریاست کو مستحکم فرمایا۔ جمع قرآن کا شرف آپ کو ہی حاصل ہوا۔ ۱۳ ہجری کو مدینہ میں وفات پائی۔ آپ کی مدت خلافت ۲ سال ۴ ماہ ہے۔

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1308
1308 صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: أُتِيَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِهِ، بِإِيليَاءَ، بِقَدَحَيْنِ مِنْ خَمْرٍ وَلَبَنٍ فَنَظَرَ إِلَيْهِمَا، فَأَخَذَ اللَّبَنَ قَالَ جِبْرِيلُ: الْحَمْدُ للهِ الَّذِي هَدَاكَ لِلْفِطْرَةِ، لَوْ أَخَذْتَ الْخَمْرَ غَوَتْ أُمَّتُكَ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ معراج کی رات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بیت المقدس میں دو پیالے پیش کیے گئے، ایک شراب کا اور دوسرا دودھ کا، آنسیدنا صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں کو دیکھا پھر دودھ کا پیالہ اٹھا لیا، اس پر جبرئیل علیہ السلام نے کہا: «الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِي هَدَاكَ لِلْفِطْرَةِ، لَوْ أَخَذْتَ الْخَمْرَ غَوَتْ أُمَّتُكَ» ”تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے آپ کو فطرت (اسلام) کی ہدایت دی، اگر آپ شراب کا پیالہ اٹھا لیتے تو آپ کی امت گمراہ ہو جاتی۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الأشربة/حدیث: 1308]
تخریج الحدیث: «صحیح، _x000D_ أخرجه البخاري في: 65 كتاب التفسير: 17 سورة بني إسرائيل: 3 حدثنا عبدان»
وضاحت: فوائد کے لحاظ سے دودھ اللہ کی بڑی زبردست نعمت ہے۔ ایسا ہی فوائد سے بھر پور دین اسلام ہے۔ لہٰذا دودھ سے دین فطرت کی تعبیر کی گئی۔ (راز)

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں