🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

اللؤلؤ والمرجان میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1906)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

677. باب إِباحة النبيذ الذي لم يشتد ولم يصر مسكرًا
باب: جس نبیذ میں تیزی نہ آئی ہو اور نہ اس میں نشہ ہو وہ حلال ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1304
1304 صحيح حديث سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ: دَعَا أَبُو أُسَيْدٍ السَّاعِدِيُّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فِي عُرْسِهِ، وَكَانَتِ امْرَأَتُهُ، يَوْمَئِذٍ، خَادِمَهُمْ، وَهِيَ الْعَرُوسُ قَالَ سَهْلٌ: تَدْرُونَ مَا سَقَتْ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْقَعَتْ لَهُ تَمَرَاتٍ مِنَ اللَّيْلِ، فَلَمَّا أَكَلَ سَقَتْهُ إِيَّاهُ
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ سیدنا ابواسید ساعدی رضی اللہ عنہ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی شادی پر دعوت دی، ان کی دلہن ام اسید سلامہ بنت وہب رضی اللہ عنہا کام کاج کر رہی تھیں اور وہی دلہن بنی تھیں۔ سیدنا سہل رضی اللہ عنہما نے کہا: تمہیں معلوم ہے انہوں نے آنسیدنا صلی اللہ علیہ وسلم کو اس موقع پر کیا پلایا تھا؟ رات کے وقت انہوں نے کچھ کھجوریں پانی میں بھگو دی تھیں، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھانے سے فارغ ہوئے تو آپ کو وہی (پانی) پلایا۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الأشربة/حدیث: 1304]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 67 كتاب النكاح: 71 باب حق إجابة الوليمة والدعوة»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1305
1305 صحيح حديث سَهْلٍ، قَالَ: لَمَّا عَرَّسَ أَبُو أُسَيْدٍ السَّاعِدِيُّ، دَعَا النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَصْحَابَهُ فَمَا صَنَعَ لَهُمْ طَعَامًا وَلاَ قَرَّبَهُ إِلَيْهِمْ، إِلاَّ امْرَأَتُهُ، أُمُّ أُسَيْدٍ بَلَّتْ تَمَرَاتٍ فِي تَوْرٍ مِنْ حِجَارَةٍ مِنَ اللَّيْلِ، فَلَمَّا فَرَغَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الطَّعَامِ أَمَاثَتْهُ لَهُ، فَسَقَتْهُ، تُتْحِفُهُ بِذلِكَ
سیدنا سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب سیدنا ابو اسید ساعدی رضی اللہ عنہ نے شادی کی تو انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ رضی اللہ عنہم کو دعوت دی۔ اس موقع پر کھانا ان کی دلہن ام اسید رضی اللہ عنہا نے ہی تیار کیا تھا۔ انہوں نے ہی مردوں کے سامنے رکھا۔ انہوں نے پتھر کے ایک بڑے پیالے میں رات کے وقت کھجوریں بھگو دی تھیں اور جب آنسیدنا صلی اللہ علیہ وسلم کھانے سے فارغ ہوئے تو انہوں نے ہی اس کا شربت بنایا اور آنسیدنا صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے (تحفہ کے طور پر) پینے کے لیے پیش کیا۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الأشربة/حدیث: 1305]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 67 كتاب النكاح: 77 باب قيام المرأة على الرجال في العرس وخدمتهم بالنفس»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1306
1306 صحيح حديث سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ رضي الله عنه، قَالَ: ذُكِرَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ امْرَأَةٌ مِنَ الْعَرَبِ، فَأَمَرَ أَبَا أُسَيْدٍ السَّاعِدِيَّ أَنْ يُرْسِلَ إِلَيْهَا؛ فأَرْسَلَ إِلَيْهَا، فَقَدِمَتْ، فَنَزَلَتْ فِي أُجُمِ بَنِي سَاعِدَةَ فَخَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى جَاءَهَا، فَدَخَلَ عَلَيْهَا، فَإِذَا امْرَأَةٌ مُنَكِّسَةٌ رَأْسَهَا فَلَمَّا كَلَّمَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: أَعُوذُ بِاللهِ مِنْكَ، فَقَالَ: قَدْ أَعَذْتُكِ مِنِّي فَقَالُوا لَهَا: أَتَدْرِينَ مَنْ هذَا قَالَتْ: لاَ قَالُوا: هذَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاءَ لِيَخْطُبَكِ قَالَتْ: كُنْتُ أَنَا أَشْقَى مِنْ ذَلِكَ فَأَقْبَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَئِذٍ، حَتَّى جَلَسَ فِي سَقِيفَةِ بَنِي سَاعِدَةَ، هُوَ وَأَصْحَابُهُ، ثُمَّ قَالَ: اسْقِنَا يَا سَهْلُ فَخَرَجْتُ لَهُمْ بِهذَا الْقَدَحِ، فَأَسْقَيْتُهُمْ فِيه (قَالَ الرَّاوِي) فَأَخْرَجَ لَنَا سَهْلٌ ذَلِكَ الْقَدَحَ فَشَرِبْنَا مِنْهُ قَالَ: ثُمَّ اسْتَوْهَبَهُ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، بَعْدَ ذَلِكَ، فَوَهَبَهُ لَهُ
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک عرب عورت کا ذکر کیا گیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابو اسید ساعدی رضی اللہ عنہ کو ان کے پاس انہیں لانے کے لیے کسی کو بھیجنے کا حکم دیا، چنانچہ انہوں نے کسی کو بھیجا اور وہ آئیں اور بنی ساعدہ کے قلعہ میں اتریں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی تشریف لائے اور ان کے پاس گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا کہ ایک عورت سر جھکائے بیٹھی ہے، جب آنسیدنا صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے گفتگو کی تو وہ کہنے لگیں: «أَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنْكَ» ”میں تم سے اللہ کی پناہ مانگتی ہوں۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا: «لَقَدْ عُذْتِ بِمَعَاذٍ» ”میں نے تجھ کو پناہ دی۔“ لوگوں نے بعد میں ان سے پوچھا: کیا تمہیں معلوم بھی ہے کہ یہ کون تھے؟ اس عورت نے جواب دیا کہ نہیں، لوگوں نے کہا: یہ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تھے، وہ تم سے نکاح کے لیے تشریف لائے تھے، اس پر وہ بولیں کہ پھر تو میں بڑی بدبخت ہوں (کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کو ناراض کر کے واپس کر دیا)۔ اسی دن حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور سقیفہ بنی ساعدہ میں اپنے صحابہ کے ساتھ بیٹھے، پھر فرمایا: ”سہل! پانی پلاؤ۔“ میں نے ان کے لیے یہ پیالہ نکالا اور انہیں اس میں پانی پلایا۔ (راویِ حدیث نے کہا:) سیدنا سہل رضی اللہ عنہ ہمارے لیے بھی وہی پیالہ نکال کر لائے اور ہم نے بھی اس میں پانی پیا، راوی نے بیان کیا کہ پھر بعد میں خلیفہ عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے ان سے یہ پیالہ مانگ لیا تھا اور انہوں نے یہ ان کو ہبہ کر دیا تھا۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الأشربة/حدیث: 1306]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 74 كتاب الأشربة: 30 باب الشرب من قدح النبي صلی اللہ علیہ وسلم وآنيته»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں