🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Study in Saudi Arabia with a Fully Funded Scholarship Admission Open Join Our Whatsapp Channel For Detail
اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

اللؤلؤ والمرجان میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1906)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

714. باب لا تدخل الملائكة بيتًا فيه كلب ولا صورة
باب: جس گھر میں کتا یا تصویر ہو اس گھر میں فرشتے داخل نہیں ہوتے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1363
1363 صحيح حديث أَبِي طَلْحَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: لاَ تَدْخلُ الْمَلاَئِكَةُ بَيْتًا فِيهِ كَلْبٌ وَلاَ صُورَةُ تَمَاثِيلَ
سیدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: فرشتے اس گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں کتے ہوں اور اس میں بھی نہیں جس میں مورت ہو۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 1363]
تخریج الحدیث: «صحیح، _x000D_ أخرجه البخاري في: 59 كتاب بدء الخلق: 7 باب إذا قال أحدكم آمين والملائكة في السماء»
وضاحت: راوي حدیث:… حضرت زید بن سہل انصاری رضی اللہ عنہ کی کنیت ابو طلحہ تھی۔ بیعت عقبہ میں بھی شریک ہوئے۔ بدر اور دیگر غزوات میں بھی شریک رہے۔ لشکر میں ابو طلحہ کی آواز سن کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ ایک جماعت سے بہتر ہے۔ ۳۱ ہجری کو وفات پائی۔ اہل بصرہ کہتے ہیں کہ آپ سمندر میں سوار ہوئے اور وفات پا گئے تھے۔

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1364
1364 صحيح حديث أَبِي طَلْحَةَعَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ، أَنَّ زَيْدَ بْنَ خَالِدٍ الْجُهَنِيَّ، حَدَّثَهُ، وَمَعَ بُسْرٍ بْنِ سَعِيدٍ عُبَيْدُ اللهِ الْخَوْلاَنِيُّ، الَّذِي كَانَ فِي حَجْرِ مَيْمُونَةَ رضي الله عنها، زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حَدَّثَهُمَا زَيْدُ ابْنُ خَالِدٍ أنَّ أَبَا طَلْحَةَ حَدَّثَهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لاَ تَدْخُلُ الْمَلاَئِكَةُ بَيْتًا فِيهِ صُورَةٌ قَالَ بُسْرٌ: فَمَرِضَ زَيْدُ ابْنُ خَالِدٍ، فَعُدْنَاهُ فَإِذَا نَحْن فِي بَيْتِهِ بِسِتْرٍ فِيهِ تَصَاوِيرُ، فَقُلْتُ لِعُبَيْدِ اللهِ الْخَوْلاَنِيِّ: أَلَمْ يُحَدِّثْنَا فِي التَّصَاوِيرِ فَقَالَ: إِنَّهُ قَالَ: إِلاَّ رَقْمٌ فِي ثَوْبٍ، أَلاَ سَمِعْتَهُ قُلْتُ: لاَ قَالَ: بَلَى، قَدْ ذَكَرَه
بسر بن سعید نے بیان کیا، اور ان سے زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا، اور (راویِ حدیث) بسر بن سعید کے ساتھ عبید اللہ خولانی بھی روایتِ حدیث میں شریک ہیں، جو کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ میمونہ رضی اللہ عنہا کی پرورش میں تھے۔ ان دونوں سے زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ان سے ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: فرشتے اس گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں (جاندار کی) تصویر ہو۔ بسر نے بیان کیا کہ پھر زید بن خالد رضی اللہ عنہ بیمار پڑے اور ہم ان کی عیادت کے لیے ان کے گھر گئے۔ گھر میں ایک پردہ پڑا ہوا تھا اور اس پر تصویریں بنی ہوئی تھیں۔ میں نے عبید اللہ خولانی سے کہا: کیا انہوں نے ہم سے تصویروں کے متعلق ایک حدیث نہیں بیان کی تھی؟ انہوں نے بتایا کہ سیدنا زید رضی اللہ عنہ نے یہ بھی کہا تھا کہ کپڑے پر اگر نقش و نگار ہوں (جاندار کی تصویر نہ ہو) تو وہ اس حکم سے الگ ہے۔ کیا آپ نے حدیث کا یہ حصہ نہیں سنا تھا؟ میں نے کہا کہ نہیں۔ انہوں نے بتایا کہ جی ہاں! سیدنا زید رضی اللہ عنہ نے یہ بھی بیان کیا تھا۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 1364]
تخریج الحدیث: «صحیح، _x000D_ أخرجه البخاري في: 59 كتاب بدء الخلق: 7 باب إذا قال أحدكم آمين والملائكة في السماء»
وضاحت: امام نووی نے لکھا ہے اورجمہور علماء کا یہی قول ہے کہ ہر وہ کپڑا لینا حرام ہے جس پر حیوان کی تصویر ہو اور اسے پہنا جاتا ہو مثلاً لباس، پگڑی، لٹکانے والا پردہ جس کی توہین نہیں ہوتی۔ ہاں اگر ایسی چیز میں ہے جس کی توہین ہوتی ہے مثلاً بچھونا جسے روندا جاتا ہے تکیہ وغیرہ تو اس کا لینا حرام نہیں۔ لیکن یہ بھی اس گھر میں فرشتوں کے داخلہ کے لیے رکاوٹ بنتا ہے، اس میں کوئی فرق نہیں کہ اس چیز کا سایہ ہو یا نہ ہو۔ (مرتب)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1365
1365 صحيح حديث عَائِشَةَ رضي الله عنها، قَالَتْ: قَدِمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِنْ سَفَرٍ، وَقَدْ سَتَرْتُ بِقِرَامٍ لِي، عَلَى سَهْوَةٍ لِي، فِيهَا تَمَاثِيلُ فَلَمَّا رَآهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، هَتَكَهُ، وَقَالَ: أَشَدَّ النَّاسِ عَذَابًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ الَّذِين يُضَاهُونَ بِخَلْقِ اللهِ، قَالَتْ: فَجَعَلْنَاهُ وِسَادَةً أَوْ وِسَادَتَيْنِ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سفر (غزوۂ تبوک) سے تشریف لائے تو میں نے اپنے گھر کے سائبان پر ایک پردہ لٹکا دیا تھا، اس پر تصویریں تھیں، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دیکھا تو کھینچ کر پھینک دیا اور فرمایا: قیامت کے دن سب سے زیادہ سخت عذاب میں وہ لوگ گرفتار ہوں گے جو اللہ کی مخلوق کی طرح خود بھی بناتے ہیں۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ پھر میں نے اسے پھاڑ کر اس پردہ کی ایک یا دو توشک بنا لیں۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 1365]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 77 كتاب اللباس: باب ما وطى من التصاوير»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1366
1366 صحيح حديث عَائِشَةَ، أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ رضي الله عنها، أَنَّهَا اشْتَرَتْ نُمْرُقَةً فِيهَا تَصَاوِيرُ، فَلَمَّا رَآهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَامَ عَلَى الْبَابِ فَلَمْ يَدْخُلْهُ، فَعَرَفْتُ فِي وَجْهِهِ الْكَرَاهِيَةَ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ أَتُوبُ إِلَى اللهِ وَإِلَى رَسُولِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مَاذَا أَذْنَبْتُ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا بَالُ هذِهِ النُّمْرُقَةِ قُلْتُ: اشْتَرَيْتُهَا لَكَ لِتَقْعُدَ عَلَيْهَا وَتَوَسَّدَهَا فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ أَصْحَابِ هذِهِ الصُّوَرِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يُعَذَّبُونَ فَيُقَالُ لَهُمْ أَحْيُوا مَا خَلَقْتُمْ وَقَالَ: إِنَّ الْبيْتَ الَّذِي فِيهِ الصُّوَرُ لاَ تَدْخُلُهُ الْمَلاَئِكَةُ
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ میں نے ایک گدا خریدا جس پر مورتیں تھیں۔ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نظر جوں ہی اس پر پڑی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم دروازے پر ہی کھڑے ہو گئے اور اندر داخل نہیں ہوئے۔ (سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ) میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک پر ناپسندیدگی کے آثار دیکھے تو عرض کی، یا رسول اللہ! میں اللہ کی بارگاہ میں توبہ کرتی ہوں اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے معافی مانگتی ہوں۔ فرمائیے مجھ سے کیا غلطی ہوئی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ گدا کیسا ہے؟ میں نے کہا کہ میں نے یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کے لیے خریدا ہے، تاکہ آپ اس پر بیٹھیں اور اس سے ٹیک لگائیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لیکن اس طرح کی مورتیں بنانے والے لوگ قیامت کے دن عذاب کیے جائیں گے اور ان سے کہا جائے گا کہ تم لوگوں نے جس چیز کو بنایا اسے زندہ کر کے دکھاؤ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا کہ جن گھروں میں مورتیں ہوتی ہیں (رحمت کے) فرشتے ان میں داخل نہیں ہوتے۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 1366]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 34 كتاب البيوع: 40 باب التجارة فيما يكره لبسه للرجال والنساء»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1367
1367 صحيح حديث عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِنَّ الَّذِينَ يَصْنَعُونَ هذِهِ الصُّوَرَ يُعَذَّبُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، يُقَالُ لَهُمْ أَحْيُوا مَا خَلَقْتُمْ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو لوگ یہ مورتیں بناتے ہیں انہیں قیامت کے دن عذاب کیا جائے گا (اور) ان سے کہا جائے گا کہ جس کو تم نے بنایا ہے اب اس میں جان بھی ڈالو۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 1367]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 77 كتاب اللباس: 89 باب عذاب المصورين يوم القيامة»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1368
1368 صحيح حديث عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: إِنَّ أَشَدَّ النَّاسِ عَذَابًا عِنْدَ اللهِ، يَوْمَ الْقِيَامَةِ، الْمُصَوِّرُونَ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آنسیدنا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کے پاس قیامت کے دن تصویر بنانے والوں کو سخت سے سخت تر عذاب ہو گا۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 1368]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 77 كتاب اللباس: 89 باب عذاب المصورين يوم القيامة»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1369
1369 صحيح حديث ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي الْحَسَنِ، قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ ابْنِ عَبَّاسٍ، إِذْ أَتَاهُ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا أَبَا عَبَّاسٍ إِنِّي إِنْسَانٌ إِنَّمَا مَعِيشَتِي مِنْ صَنْعَةِ يَدِي، وَإِنِّي أَصْنَعُ هذِهِ التَّصَاوِيرَ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاِسٍ: لاَ أُحَدِّثُكَ إِلاَّ مَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ، سَمِعْتُهُ يَقُولُ: مَنْ صَوَّرَ صُورَةً فَإِنَّ اللهِ مُعَذِّبَهُ حَتَّى يَنْفُخَ فِيهَا الرُّوحَ، وَلَيْسَ بِنَافِخٍ فِيهَا أَبَدًا فَرَبَا الرَّجُلُ رَبْوَةً شَدِيدَةً، وَاصْفَرَّ وَجْهُهُ فَقَالَ: وَيْحَكَ إِنْ أَبَيْتَ إِلاَّ أَنْ تَصْنَعَ، فَعَلَيْكَ بِهذَا الشَّجَرِ، كُلِّ شَيْءٍ لَيْسَ فِيهِ رُوحٌ
سعید بن ابو الحسن نے بیان کیا کہ میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی خدمت میں حاضر تھا کہ ایک شخص ان کے پاس آیا اور کہا کہ اے ابو عباس! میں ان لوگوں میں سے ہوں، جن کی روزی اپنے ہاتھ کی صنعت پر موقوف ہے اور میں یہ مورتیں بناتا ہوں۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اس پر فرمایا کہ میں تمہیں صرف وہی بات بتلاؤں گا جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا تھا کہ جس نے بھی کوئی مورت بنائی تو اللہ تعالیٰ اسے اس وقت تک عذاب کرتا رہے گا جب تک وہ شخص اپنی مورت میں جان نہ ڈال دے اور وہ کبھی اس میں جان نہیں ڈال سکتا۔ (یہ سن کر) اس شخص کا سانس چڑھ گیا اور چہرہ زرد پڑ گیا۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ افسوس! اگر تم مورتیں بنانی ہی چاہتے ہو تو ان درختوں کی اور ہر اس چیز کی جس میں جان نہ ہو مورتیں بنا سکتے ہو۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 1369]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 34 كتاب البيوع: 104 باب بيع التصاوير التي ليس فيها روح وما يكره من ذلك»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1370
1370 صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، قَالَ: دَخَلْتُ مَعَ أَبِي هُرَيْرَةَ دَارًا بِالْمَدِينَةِ، فَرَأَى أَعْلاَهَا مُصَوِّرًا يُصَوِّرُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنْ ذَهَبَ يَخْلُقُ كَخَلْقِي، فَلْيَخْلُقُوا حَبَّةً، وَلْيَخْلُقُوا ذَرَّةً
ابوزرعہ رحمہ اللہ نے بیان کیا کہ میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ مدینہ منورہ میں (مروان بن حکم کے گھر میں) گیا تو انہوں نے چھت پر ایک مصور کو دیکھا جو تصویر بنا رہا تھا، انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا (اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے): «وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنْ ذَهَبَ يَخْلُقُ كَخَلْقِي، فَلْيَخْلُقُوا حَبَّةً، وَلْيَخْلُقُوا ذَرَّةً» اس شخص سے بڑھ کر ظالم اور کون ہوگا جو میری مخلوق کی طرح پیدا کرنے چلا ہے، اگر اسے یہی گھمنڈ ہے تو اسے چاہیے کہ ایک دانہ پیدا کرے، ایک چیونٹی پیدا کرے۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 1370]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 77 كتاب اللباس: 90 باب نقض الصور»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں