اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
714. باب لا تدخل الملائكة بيتًا فيه كلب ولا صورة
باب: جس گھر میں کتا یا تصویر ہو اس گھر میں فرشتے داخل نہیں ہوتے
حدیث نمبر: 1364
1364 صحيح حديث أَبِي طَلْحَةَعَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ، أَنَّ زَيْدَ بْنَ خَالِدٍ الْجُهَنِيَّ، حَدَّثَهُ، وَمَعَ بُسْرٍ بْنِ سَعِيدٍ عُبَيْدُ اللهِ الْخَوْلاَنِيُّ، الَّذِي كَانَ فِي حَجْرِ مَيْمُونَةَ رضي الله عنها، زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حَدَّثَهُمَا زَيْدُ ابْنُ خَالِدٍ أنَّ أَبَا طَلْحَةَ حَدَّثَهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لاَ تَدْخُلُ الْمَلاَئِكَةُ بَيْتًا فِيهِ صُورَةٌ قَالَ بُسْرٌ: فَمَرِضَ زَيْدُ ابْنُ خَالِدٍ، فَعُدْنَاهُ فَإِذَا نَحْن فِي بَيْتِهِ بِسِتْرٍ فِيهِ تَصَاوِيرُ، فَقُلْتُ لِعُبَيْدِ اللهِ الْخَوْلاَنِيِّ: أَلَمْ يُحَدِّثْنَا فِي التَّصَاوِيرِ فَقَالَ: إِنَّهُ قَالَ: إِلاَّ رَقْمٌ فِي ثَوْبٍ، أَلاَ سَمِعْتَهُ قُلْتُ: لاَ قَالَ: بَلَى، قَدْ ذَكَرَه
بسر بن سعید نے بیان کیا، اور ان سے زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا، اور (راویِ حدیث) بسر بن سعید کے ساتھ عبید اللہ خولانی بھی روایتِ حدیث میں شریک ہیں، جو کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ میمونہ رضی اللہ عنہا کی پرورش میں تھے۔ ان دونوں سے زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ان سے ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”فرشتے اس گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں (جاندار کی) تصویر ہو۔“ بسر نے بیان کیا کہ پھر زید بن خالد رضی اللہ عنہ بیمار پڑے اور ہم ان کی عیادت کے لیے ان کے گھر گئے۔ گھر میں ایک پردہ پڑا ہوا تھا اور اس پر تصویریں بنی ہوئی تھیں۔ میں نے عبید اللہ خولانی سے کہا: کیا انہوں نے ہم سے تصویروں کے متعلق ایک حدیث نہیں بیان کی تھی؟ انہوں نے بتایا کہ سیدنا زید رضی اللہ عنہ نے یہ بھی کہا تھا کہ کپڑے پر اگر نقش و نگار ہوں (جاندار کی تصویر نہ ہو) تو وہ اس حکم سے الگ ہے۔ کیا آپ نے حدیث کا یہ حصہ نہیں سنا تھا؟ میں نے کہا کہ نہیں۔ انہوں نے بتایا کہ جی ہاں! سیدنا زید رضی اللہ عنہ نے یہ بھی بیان کیا تھا۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 1364]
تخریج الحدیث: «صحیح، _x000D_ أخرجه البخاري في: 59 كتاب بدء الخلق: 7 باب إذا قال أحدكم آمين والملائكة في السماء»
وضاحت: امام نووی نے لکھا ہے اورجمہور علماء کا یہی قول ہے کہ ہر وہ کپڑا لینا حرام ہے جس پر حیوان کی تصویر ہو اور اسے پہنا جاتا ہو مثلاً لباس، پگڑی، لٹکانے والا پردہ جس کی توہین نہیں ہوتی۔ ہاں اگر ایسی چیز میں ہے جس کی توہین ہوتی ہے مثلاً بچھونا جسے روندا جاتا ہے تکیہ وغیرہ تو اس کا لینا حرام نہیں۔ لیکن یہ بھی اس گھر میں فرشتوں کے داخلہ کے لیے رکاوٹ بنتا ہے، اس میں کوئی فرق نہیں کہ اس چیز کا سایہ ہو یا نہ ہو۔ (مرتب)
الحكم على الحديث:
«صحیح»
Al-Lulu wal-Marjan Hadith 1364 in Urdu