🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

اللؤلؤ والمرجان میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1906)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

725. باب الاستئذان
باب: اجازت مانگنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1391
1391 صحيح حديث أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: كُنْتُ فِي مَجْلِسٍ مِنْ مَجَالِسِ الأَنْصَارِ إِذْ جَاءَ أَبُو مُوسى كَأَنَّهُ مَذْعُورٌ فَقَالَ: اسْتَأْذَنْتُ عَلَى عُمَرَ ثَلاَثًا، فَلَمْ يُؤْذَنْ لِي، فَرَجَعْتُ فَقَالَ: مَا مَنَعَكَ قُلْتُ: اسْتَأْذَنْتُ ثَلاَثًا فَلَمْ يُؤْذَنْ لِي، فَرَجَعْتُ وَقَالَ [ص:50] رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا اسْتَأْذَنَ أَحَدُكُمْ ثَلاَثًا، فَلَمْ يُؤْذَنْ لَهُ فَلْيَرْجِعْ فَقَالَ: وَاللهِ لَتُقِيمَنَّ عَلَيْهِ بِبَيِّنَةٍ أَمِنْكُمْ أَحَدٌ سَمِعَهُ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ: وَاللهِ لاَ يَقُومُ مَعَكَ إِلاَّ أَصْغَرُ الْقَوْمِ، فَكُنْت أَصْغَرَ الْقَوْمِ؛ فَقُمْتُ مَعَهُ فَأَخْبَرْتُ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ ذَلِكَ
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں انصار کی ایک مجلس میں تھا کہ سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ تشریف لائے جیسے گھبرائے ہوئے ہوں۔ انہوں نے کہا کہ میں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے یہاں تین مرتبہ اندر آنے کی اجازت چاہی لیکن مجھے کوئی جواب نہیں ملا، اس لیے میں واپس چلا آیا، (جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو معلوم ہوا) تو انہوں نے دریافت کیا کہ (اندر آنے میں) کیا بات مانع تھی؟ میں نے کہا کہ میں نے تین مرتبہ اندر آنے کی اجازت مانگی اور جب مجھے کوئی جواب نہیں ملا تو واپس چلا گیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ: ”جب تم میں سے کوئی کسی سے تین مرتبہ اجازت چاہے اور اجازت نہ ملے تو واپس چلے جانا چاہیے۔“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: واللہ! تمہیں اس حدیث کی صحت کے لیے کوئی گواہ لانا ہوگا۔ (سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ نے مجلس والوں سے پوچھا) کیا تم میں سے کوئی ایسا ہے جس نے آنسیدنا صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ حدیث سنی ہو؟ سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اللہ کی قسم! تمہارے ساتھ (اس کی گواہی دینے کو) جماعت میں سب سے کم عمر شخص کے سوا اور کوئی کھڑا نہیں ہوگا۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں ہی جماعت کا وہ سب سے کم عمر آدمی تھا، میں ان کے ساتھ اٹھ کر گیا اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے کہا کہ واقعی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا فرمایا ہے۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الآداب/حدیث: 1391]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 79 كتاب الاستئذان: 13 باب التسليم والاستئذان ثلاثًا»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں