اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
726. باب كراهة قول المستأذن أنا إِذا قيل من هذا
باب: جب کوئی آنے والے سے پوچھے کون ہے تو جواب میں اپنا نام بتائے، میں ہوں کہنا مکروہ ہے
حدیث نمبر: 1392
1392 صحيح حديث جَابِرٍ رضي الله عنه، قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي دَيْنٍ كَانَ عَلَى أَبِي فَدَقَقْتُ الْبَابَ فَقَالَ: مَنْ ذَا فَقُلْتُ: أَنَا فَقَالَ: أَنَا، أَنَا كَأَنَّهُ كَرِهَهَا
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ بیان کرتے تھے کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اس قرض کے بارے میں حاضر ہوا جو میرے والد پر تھا۔ میں نے دروازہ کھٹکھٹایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”کون ہے؟“ میں نے عرض کیا: میں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں، میں“ جیسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس جواب کو ناپسند فرمایا۔ (کیونکہ بعض وقت صرف آواز سے صاحب خانہ پہچان نہیں سکتا کہ کون ہے، اس لیے جواب میں اپنا نام بیان کرنا چاہیے) [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الآداب/حدیث: 1392]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 79 كتاب الاستئذان: 17 باب إذا قال من ذا فقال أنا»
الحكم على الحديث:
«صحیح»