اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
727. باب تحريم النظر في بيت غيره
باب: پرائے کے گھر میں جھانکنا حرام ہے
حدیث نمبر: 1393
1393 صحيح حديث سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ، أَنَّ رَجُلاً اطَّلَعَ فِي جُحْرٍ فِي بَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَمَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِدْرًى يَحُكُّ بِهِ رَأْسَهُ فَلَمَّا رَآهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لَوْ أَعْلَمُ أَنْ تَنْتَظِرَنِي لَطَعَنْتُ بِهِ فِي عَيْنَيْكَ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّمَا جُعِلَ الإِذْنُ مِنْ قِبَلِ الْبَصَرِ
سیدنا سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دروازے کے ایک سوراخ سے اندر جھانکنے لگا۔ اس وقت آنسیدنا صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لوہے کا کنگھا تھا جس سے آپ سر جھاڑ رہے تھے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دیکھا تو فرمایا: ”اگر مجھے معلوم ہوتا کہ تم جھانکتے ہوئے میرا انتظار کر رہے ہو تو میں اسے تمہاری آنکھ میں چبھو دیتا۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(گھر کے اندر آنے کی) اجازت لینے کا جو حکم دیا گیا ہے وہ اسی لیے تو ہے کہ نظر نہ پڑے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الآداب/حدیث: 1393]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في 87 كتاب الديات: 23 باب من اطلع في بيت قوم ففقئوا عينه فلا دية له»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
حدیث نمبر: 1394
1394 صحيح حديث أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَجُلاً اطَّلَعَ مِنْ بَعْضِ حُجَرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَامَ إِلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِمِشْقَصٍ، أَوْ بِمَشَاقِصَ، فَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهِ يَخْتِلُ الرَّجُلَ لِيَطعُنَهُ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک صاحب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی حجرے میں جھانک کر دیکھنے لگے، تو آنسیدنا صلی اللہ علیہ وسلم ان کی طرف تیر کا پھل یا بہت سے پھل لے کر بڑھے، گویا میں آنسیدنا صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ رہا ہوں، ان صاحب کی طرف اس طرح چپکے چپکے تشریف لائے، گویا آپ صلی اللہ علیہ وسلم وہ پھل انہیں چبھو دیں گے۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الآداب/حدیث: 1394]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 79 كتاب الاستئذان: 11 باب الاستئذان من أجل البصر»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
حدیث نمبر: 1395
1395 صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: لَوِ اطَّلَعَ فِي بَيْتِكَ أَحَدٌ وَلَمْ تَأذَنْ لَهُ، خَذَفْتَهُ بِحَصَاةٍ فَفَقَأتَ عَيْنَهُ، مَا كَانَ عَلَيْكَ مِنْ جُنَاحِ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر کوئی شخص تیرے گھر میں (کسی سوراخ یا جنگلے وغیرہ سے) تم سے اجازت لیے بغیر جھانک رہا ہو اور تم اسے کنکری مارو جس سے اس کی آنکھ پھوٹ جائے تو تم پر کوئی سزا نہیں ہے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الآداب/حدیث: 1395]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 87 كتاب الديات: 15 باب من أخذ حقه أو اقتص دون السلطان»
الحكم على الحديث:
«صحیح»