اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
737. باب منع المخنث من الدخول على النساء الأجانب
باب: ہیجڑا اجنبی عورتوں کے پاس نہ جائے
حدیث نمبر: 1407
1407 صحيح حديث أُمِّ سَلَمَةَ رضي الله عنها، قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَعِنْدِي مُخَنَّثٌ، فَسَمِعَهُ يَقُولُ لِعَبْدِ اللهِ بْنِ أُمَيَّةَ: يَا عَبْدَ اللهِ أَرَأَيْتَ إِنْ فَتَحَ اللهُ عَلَيْكُمُ الطَّائِفَ غَدًا، فَعَلَيْكَ بِابْنَةِ غَيْلاَنَ، فَإِنَّهَا تَقْبِلُ بِأَرْبَعٍ، وَتدْبِرُ بِثَمَانٍ وَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لاَ يَدْخُلَنَّ هؤُلاَءِ عَلَيْكُنَّ
ام المومنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرے یہاں تشریف لائے تو میرے پاس ایک مخنث بیٹھا ہوا تھا، پھر آنسیدنا صلی اللہ علیہ وسلم نے سنا کہ وہ عبداللہ بن امیہ رضی اللہ عنہ سے کہہ رہا تھا کہ اے عبداللہ! دیکھو اگر کل اللہ تعالیٰ نے طائف کی فتح تمہیں عنایت فرمائی تو غیلان بن سلمہ کی بیٹی (بادیہ نامی) کو لے لینا، وہ جب سامنے آتی ہے تو پیٹ پر چار بل اور پیٹھ موڑ کر جاتی ہے تو آٹھ بل دکھائی دیتے ہیں (یعنی بہت موٹی تازی عورت ہے)، اس لیے آنسیدنا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ شخص اب تمہارے گھر میں نہ آیا کرے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب السلام/حدیث: 1407]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 64 كتاب المغازي: 56 باب غزوة الطائف في شوال سنة ثمان»