اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
738. باب جواز إِرداف المرأة الأجنبية إِذا أعيت في الطريق
باب: اگر اجنبی عورت راہ میں تھک گئی ہو تو اس کو اپنے ساتھ سوار کر لینا درست ہے
حدیث نمبر: 1408
1408 صحيح حديث أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ، قَالَتْ: تَزَوَّجَنِي الزُّبَيْرُ، وَمَا لَهُ فِي الأَرْضِ مِنْ مَالٍ وَلاَ مَمْلوكٍ وَلاَ شَيْءٍ، غَيْرَ نَاضِجٍ وَغَيْرَ فَرَسِهِ فَكُنْتُ أَعْلِفُ فَرَسَهُ، وَأَسْتَقِي الْمَاءَ، وَأَخْرِزُ غَرْبَهُ، وَأَعجِنُ، وَلَمْ أَكُنْ أُحْسِنُ أَخْبِزُ وَكَانَ يَخْبِزُ جَارَاتٌ لِي مِنَ الأَنْصَارِ، وَكُنَّ نِسْوَةَ صِدْقٍ وَكُنْتُ أَنْقُلُ النَّوَى مِنْ أَرْضِ الزُّبَيْرِ الَّتِي أَقْطَعَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَلَى رَأْسِي، وَهِيَ مِنِّي عَلَى ثُلثَيْ فَرْسَخٍ فَجِئْتُ يَوْمًا وَالنَّوَى عَلَى رَأسِي، فَلَقِيتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَمَعَهُ نَفَرٌ مِنَ الأَنْصَارِ فَدَعَانِي ثُمَّ قَالَ: إِخْ إِخْ لِيَحْمِلَنِي خَلْفَهُ فَاسَتَحْيَيْتُ أَنْ أَسِيرَ مَعَ الرِّجَالِ، وَذَكَرْتُ الزُّبَيْرَ وَغَيْرَتَهُ، وَكَانَ أَغْيَرَ النَّاسِ فَعَرَفَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنِّي اسْتَحْيَيْتُ، فَمَضى فَجِئْتُ الزُّبَيْرَ، فَقُلْتُ: لَقِيَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَعَلَى رَأْسِي النَّوَى، وَمَعَهُ نَفَرٌ مِنْ أَصْحَابِهِ، فَأَنَاخَ لأَرْكَبَ فَاسْتَحْيَيْتُ مِنْهُ، وَعَرَفْتُ غَيْرَتَكَ فَقَالَ: وَاللهِ لَحَمْلُكِ النَّوَى كَانَ أَشَدَّ عَلَيَّ مِنْ رُكُوبِكِ مَعَهُ قَالَتْ: حَتَّى أَرْسَلَ إِلَيَّ أَبُو بَكْرٍ، بَعْدَ ذَلِكَ، بِخَادِمٍ يَكْفِينِي سِيَاسَةَ الْفَرَسِ، فَكَأَنَّمَا أَعْتَقَنِي
سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ نے مجھ سے شادی کی تو ان کے پاس ایک اونٹ اور ان کے گھوڑے کے سوا روئے زمین پر کوئی مال، کوئی غلام، کوئی چیز نہیں تھی۔ میں ہی ان کا گھوڑا چراتی، پانی پلاتی، ان کا ڈول سیتی اور آٹا گوندھتی تھی۔ میں اچھی طرح روٹی نہیں پکا سکتی تھی۔ انصار کی کچھ لڑکیاں میری روٹی پکا جاتی تھیں۔ یہ بڑی سچی اور باوفا عورتیں تھیں۔ سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کی وہ زمین جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دی تھی، اس سے میں اپنے سر پر کھجور کی گٹھلیاں گھر لایا کرتی تھی۔ یہ زمین میرے گھر سے دو میل دور تھی۔ ایک روز میں آ رہی تھی اور گٹھلیاں میرے سر پر تھیں کہ راستے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات ہو گئی۔ آنسیدنا صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ قبیلہ انصار کے کئی آدمی تھے۔ آنسیدنا صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلایا، پھر (اپنے اونٹ کو بٹھانے کے لیے) کہا: «إِخْ إِخْ» ”إِخْ إِخْ“۔ آنسیدنا صلی اللہ علیہ وسلم چاہتے تھے کہ مجھے اپنی سواری پر اپنے پیچھے سوار کر لیں لیکن مجھے مردوں کے ساتھ چلنے میں شرم آئی اور سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کی غیرت کا بھی خیال آیا۔ سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ بڑے ہی با غیرت تھے۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بھی سمجھ گئے کہ میں شرم محسوس کر رہی ہوں، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم آگے بڑھ گئے۔ پھر میں سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کے پاس آئی اور ان سے واقعہ کا ذکر کیا کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم سے میری ملاقات ہو گئی تھی، میرے سر پر گٹھلیاں تھیں اور آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آپ کے چند صحابہ بھی تھے۔ آنسیدنا صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا اونٹ مجھے بٹھانے کے لیے بٹھایا لیکن مجھے اس سے شرم آئی اور تمہاری غیرت کا بھی خیال آیا۔ اس پر سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اللہ کی قسم! مجھ کو تو اس سے بڑا رنج ہوا کہ تو گٹھلیاں لانے کے لیے نکلی، اگر تو آنسیدنا صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سوار ہو جاتی تو اتنی غیرت کی بات نہ تھی (کیونکہ سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا آپ کی سالی اور بھاوج دونوں ہوتی تھیں) اس کے بعد میرے والد سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے ایک غلام میرے پاس بھیج دیا، وہ گھوڑے کا سب کام کرنے لگا اور میں بے فکر ہو گئی، گویا والد ماجد سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے (غلام بھیج کر) مجھ کو آزاد کر دیا۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب السلام/حدیث: 1408]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 67 كتاب النكاح: 107 باب الغيرة»