اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
739. باب مناجاة الاثنين دون الثالث بغير رضاه
باب: تین آدمی ہوں تو ان میں سے دو تیسرے کی رضا مندی کے بغیر سرگوشی نہ کریں
حدیث نمبر: 1409
1409 صحيح حديث عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ، قَالَ: إِذَا كَانُوا ثَلاَثَةً فَلاَ يَتَنَاجى اثْنَانِ دُونَ الثَّالِثِ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تین آدمی ساتھ ہوں تو تیسرے ساتھی کو چھوڑ کر، دو آپس میں کانا پھوسی نہ کریں۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب السلام/حدیث: 1409]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 79 كتاب الاستئذان: 45 باب لا يتناجى اثنان دون الثالث»
حدیث نمبر: 1410
1410 صحيح حديث عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا كُنْتُمْ ثَلاَثَةً، فَلاَ يَتَنَاجى رَجُلاَنٍ دُونَ الآخَرِ حَتَّى تَخْتَلِطُوا بِالنَّاسِ أَجْلَ أَنْ يُحْزِنَهُ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم تین آدمی ہو تو تیسرے ساتھی کو چھوڑ کر تم آپس میں کانا پھوسی نہ کیا کرو، اس لیے کہ اس سے لوگوں کو رنج ہوگا، البتہ اگر دوسرے آدمی بھی ہوں تو مضائقہ نہیں۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب السلام/حدیث: 1410]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 79 كتاب الاستئذان: 47 باب إذا كانوا أكثر من ثلاثة فلا بأس بالمسارة والمناجاة»