اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
744. باب رقية المريض بالمعوّذات والنفث
باب: بیمار پر معوذات پڑھ کر پھونکنا
حدیث نمبر: 1415
1415 صحيح حديث عَائِشَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ، إِذَا اشْتَكَى، يَقْرَأُ عَلَى نَفْسِهِ بِالْمَعَوِّذَاتِ، وَيَنْفُثُ فَلَمَّا اشْتَدَّ وَجَعُهُ كُنْتُ أَقْرَأُ عَلَيْهِ، وَأَمَسَحُ بِيَدِهِ، رَجَاءَ بَرَكَتِهَا
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب بیمار پڑتے تو معوذات کی سورتیں پڑھ کر اپنے اوپر دم کرتے (اس طرح کہ ہوا کے ساتھ کچھ تھوک بھی نکلتا)، پھر جب (مرض الموت میں) آپ کی تکلیف بڑھ گئی تو میں ان سورتوں کو پڑھ کر برکت کی امید میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھوں کو آپ کے جسد مبارک پر پھیرتی تھی۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب السلام/حدیث: 1415]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 66 كتاب فضائل القرآن: 14 باب المعوذات»
وضاحت: معوذات سے آخری تین سورتیں سورہ اخلاص، فلق اور ناس مراد ہیں۔ دم پڑھنے کے لیے ان سورتوں کی تاثیر فی الواقع اکسیر کا درجہ رکھتی ہے۔ تعجب ہے ان نام نہاد احمق عالموں پر جو بناوٹی اور مہمل لفظوں میں چھو منتر کرتے اور قرآن کی اکسیر سورتوں سے منہ موڑتے ہیں۔ (راز)