اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
745. باب استحباب الرقية من العين والنملة والحمة والنظرة
باب: نظر اور غلہ اور زہر کے لیے دم کرنا مستحب ہے
حدیث نمبر: 1416
1416 صحيح حديث عَائِشَةَ عَنِ الأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ، أَنَّهُ قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ عَنِ الرُّقْيَةِ مِنَ الْحُمَةِ فَقَالَتْ: رَخَّصَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الرُّقْيَةَ مِنْ كُلِّ ذِي حُمَةٍ
اسود بن یزید کہتے ہیں کہ میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے زہریلے جانور کے کاٹنے میں دم کرنے کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ”ہر زہریلے جانور کے کاٹنے میں دم کرنے کی اجازت دی ہے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب السلام/حدیث: 1416]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 76 كتاب الطب: 37 باب رقية الحية والعقرب»
حدیث نمبر: 1417
1417 صحيح حديث عَائِشَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَانَ يَقُولُ لِلْمَرِيضِ: بِسْمِ اللهِ، تُرْبَةُ أَرْضِنَا، بِرِيقَةِ بَعْضِنَا، يُشْفَى سَقِيمُنَا، بِإِذْنِ رَبِّنَا
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مریض کے لیے (کلمے کی انگلی زمین پر لگا کر) یہ دعا پڑھتے تھے: «بِسْمِ اللَّهِ، تُرْبَةُ أَرْضِنَا، بِرِيقَةِ بَعْضِنَا، يُشْفَى سَقِيمُنَا، بِإِذْنِ رَبِّنَا» ”اللہ کے نام کی مدد سے ہماری زمین کی مٹی ہم میں سے کسی کے تھوک کے ساتھ تا کہ ہمارا مریض شفا پا جائے ہمارے رب کے حکم سے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب السلام/حدیث: 1417]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 76 كتاب الطب: 38 باب رقية النبي صلي الله عليه وسلم»
حدیث نمبر: 1418
1418 صحيح حديث عَائِشَةَ، قَالَتْ: أَمَرَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَوْ أَمَرَ أَنْ يُسْتَرْقَى منَ الْعَيْنِ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا یا (آپ نے اس طرح بیان کیا کہ) آنسیدنا صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ ”نظر بد لگ جانے پر معوذتین سے دم کر لیا کرو۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب السلام/حدیث: 1418]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 76 كتاب الطب: 35 باب رقية العين»
حدیث نمبر: 1419
1419 صحيح حديث أُمِّ سَلَمَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، رَأَى فِي بَيْتِهَا جَارِيَةً، فِي وَجْهِهَا سَفْعَةٌ فَقَالَ: اسْتَرْقُوا لَهَا، فَإِنَّ بِهَا النَّظْرَةَ
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے گھر میں ایک لڑکی دیکھی جس کے چہرے پر (نظر بد لگنے کی وجہ سے) کالے دھبے پڑ گئے تھے۔ آنسیدنا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «اسْتَرْقُوا لَهَا؛ فَإِنَّ بِهَا النَّظْرَةَ» ”اس پر دم کرا دو کیونکہ اسے نظر بد لگ گئی ہے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب السلام/حدیث: 1419]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 76 کتاب الطب: 35 باب رقیۃ العین»