🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Study in Saudi Arabia with a Fully Funded Scholarship Admission Open Join Our Whatsapp Channel For Detail
اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

اللؤلؤ والمرجان میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1906)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

753. باب الطاعون والطيرة والكهانة وغيرها
باب: طاعون، بری فال اور کہانت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1433
1433 صحيح حديث أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الطَّاعُونُ رِجْسٌ، أُرْسِلَ عَلَى ظَائِفَةٍ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ، أَوْ عَلَى مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ، فَإِذَا سَمِعْتُمْ بِهِ بِأَرْضٍ فَلاَ تَقْدَمُوا عَلَيْهِ وَإِذَا وَقَعَ بِأَرْضٍ وَأَنْتُمْ بِهَا فَلاَ تَخْرُجُوا فِرَارًا مِنْهُ (وَفِي رِوَايَةٍ) لاَ يُخْرِجُكُمْ إِلاَّ فِرَارًا مِنْهُ
سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: طاعون ایک عذاب ہے جو پہلے بنی اسرائیل کے ایک گروہ پر بھیجا گیا تھا یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا کہ ایک گزشتہ امت پر بھیجا گیا تھا۔ اس لیے جب کسی جگہ کے متعلق تم سنو (کہ وہاں طاعون پھیلا ہوا ہے) تو وہاں نہ جاؤ، لیکن اگر کسی ایسی جگہ یہ وبا پھیل جائے جہاں تم پہلے سے موجود ہو تو وہاں سے مت نکلو۔ اور ایک روایت میں ہے، یعنی بھاگنے کے سوا اور کوئی غرض نہ ہو تو: مت نکلو۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب السلام/حدیث: 1433]
تخریج الحدیث: «صحیح، _x000D_ أخرجه البخاري في: 60 كتاب الأنبياء: 54 باب حدثنا أبو اليمان»
وضاحت: معلوم ہوا کہ تجارت، جہاد یا دوسری اغراض (سوائے فرارکے) کے لیے طاعون زدہ مقامات سے نکلنا جائز ہے۔ حضرت عمر شام کو جا رہے تھے۔ معلوم ہوا کہ وہاں طاعون ہے، واپس لوٹ آئے۔ لوگوں نے کہا کہ آپ اللہ کی تقدیر سے بھاگتے ہیں؟ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے جواب دیاکہ ہم اللہ کی تقدیر سے اللہ کی تقدیر ہی کی طرف بھاگ رہے ہیں۔ (راز)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1434
1434 صحيح حديث عَبْدِ الرَّحْمنِ بْنِ عَوْفٍ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رضي الله عنه، خَرَجَ إِلَى الشَّامِ، حَتَّى إِذَا كَانَ بِسَرْغَ، لَقِيَهُ أُمَرَاءُ الأَجْنَادِ، أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ وَأَصْحَابُهُ، فَأَخْبَرُوهُ أَنَّ الْوَبَاءَ قَدْ وَقَعَ بِأَرْضِ الشَّامِ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: فَقَالَ عُمَرُ: ادْعُ لِي الْمُهَاجِرِينَ الأَوَّلِينَ فَدَعَاهُمْ فَاسْتَشَارَهُمْ وَأَخْبَرَهُمْ أَنَّ الْوَبَاءَ قَدْ وَقَعَ بِالشَّامِ، فَاخْتَلَفُوا فَقَالَ بَعْضهُمْ: قَدْ خَرَجْتَ لأَمْرٍ، وَلاَ نَرَى أَنْ تَرْجِعَ عَنْهُ وَقَالَ بَعْضُهُمْ: مَعَكَ بَقِيَّةُ النَّاسِ وَأَصْحَابُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلاَ نَرَى أَنْ تُقْدِمَهُمْ عَلَى هذَا الْوَبَاءِ فَقَالَ: ارْتَفِعُوا عَنِّي ثُمَّ قَالَ: ادْعُوا لِي الأَنْصَارَ فَدَعَوْتُهُمْ، فَاسْتَشَارَهُمْ فَسَلَكُوا سَبِيلَ الْمُهَاجِرِينَ، وَاخْتَلَفُوا كَاخْتِلاَفِهِمْ فَقَالَ: ارْتَفِعُوا عَنِّي ثُمَّ قَالَ: ادْعُ لِي مَنْ كَانَ ههُنَا مِنْ مَشْيَخَةِ قُرَيْشٍ مِنْ مُهَاجِرَةِ الْفَتْحِ فَدَعَوْتُهُمْ، فَلَمْ يَخْتَلِفْ مِنْهُمْ عَلَيْهِ رَجُلاَنِ فَقَالُوا: نَرَى أَنْ تَرْجِعَ بِالنَّاسِ وَلاَ تقْدِمَهُمْ عَلَى هذَا الْوَبَاءِ فَنَادَى عُمَرُ، فِي النَّاسِ: إِنِّي مُصْبِحٌ عَلَى ظَهْرٍ فَأَصْبَحُوا عَلَيْهِ قَالَ أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ: أَفِرَارًا مِنْ قَدَرِ اللهِ فَقَالَ عُمَرُ: لَوْ غَيْرُكَ قَالَهَا يَا أَبَا عُبَيْدَةَ نَعَمْ، نَفِرُّ مِنْ قَدَرِ اللهِ إِلَى قَدَرِ اللهِ، أَرَأَيْتَ لَوْ كَانَ لَكَ إِبِلٌ هَبَطَتْ وَادِيًا لَهُ عُدْوَتَانِ، إِحْدَاهُمَا خَصِبَةٌ وَالأُخْرَى جَدْبَةٌ، أَلَيْسَ إِنْ رَعَيْتَ الْخَصِبَةَ رَعَيْتَهَا بِقَدَرِ اللهِ، وَاِنْ رَعَيْتَ الْجَدْبَةَ رَعَيْتَهَا بِقَدَرِ اللهِ قَالَ: فَجَاءَ عَبْدُ الرَّحْمنِ بْنُ عَوْفٍ وَكَانَ مُتَغَيِّبًا فِي بَعْضِ حَاجَتِهِ، فَقَالَ: إِنَّ عِنْدِي فِي هذَا عِلْمًا سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: إِذَا سَمِعْتُمْ بِهِ بَأَرْضٍ فَلاَ تَقْدَمُوا عَلَيْهِ، وَإِذَا وَقَعَ بِأَرْضٍ وَأَنْتُمْ بِهَا فَلاَ تَخْرُجُوا فِرَارًا مِنْهُ قَالَ: فَحَمِدَ اللهَ عُمَرُ، ثُمَّ انْصَرَفَ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شام تشریف لے جا رہے تھے، جب آپ مقامِ سرغ پر پہنچے تو آپ کی ملاقات فوجوں کے امراء سیدنا ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں سے ہوئی۔ ان لوگوں نے امیر المومنین کو بتایا کہ طاعون کی وبا شام میں پھوٹ پڑی ہے۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ اس پر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میرے پاس مہاجرینِ اولین کو بلا لاؤ۔ آپ انہیں بلا لائے تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے مشورہ کیا اور انہیں بتایا کہ شام میں طاعون کی وبا پھوٹ پڑی ہے۔ مہاجرینِ اولین کی رائیں مختلف ہو گئیں۔ بعض لوگوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ اور ساتھیوں کی باقی ماندہ جماعت آپ کے ساتھ ہے اور یہ مناسب نہیں ہے کہ آپ انہیں اس وبا میں ڈال دیں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اچھا اب آپ لوگ تشریف لے جائیں، پھر فرمایا کہ انصار کو بلاؤ۔ میں انصار کو بلا کر لایا، آپ نے ان سے بھی مشورہ کیا اور انہوں نے بھی مہاجرین کی طرح اختلاف کیا، کوئی کہنے لگا چلو، کوئی کہنے لگا لوٹ جاؤ۔ امیر المومنین نے فرمایا کہ اب آپ لوگ بھی تشریف لے جائیں، پھر فرمایا کہ یہاں پر جو قریش کے بڑے بوڑھے ہیں جو فتحِ مکہ کے وقت اسلام قبول کر کے مدینہ آئے تھے انہیں بلا لاؤ، میں انہیں بلا کر لایا۔ ان لوگوں میں کوئی اختلافِ رائے پیدا نہیں ہوا، سب نے کہا کہ ہمارا خیال ہے کہ آپ لوگوں کو ساتھ لے کر واپس لوٹ چلیں اور وبائی ملک میں لوگوں کو لے جا کر نہ ڈالیں۔ یہ سنتے ہی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے لوگوں میں اعلان کرا دیا کہ میں صبح کو اونٹ پر سوار ہو کر واپس مدینہ منورہ لوٹ جاؤں گا، تم لوگ بھی واپس چلو۔ صبح کو ایسا ہی ہوا تو سیدنا ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا اللہ کی تقدیر سے فرار اختیار کیا جائے گا؟ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: کاش! یہ بات کسی اور نے کہی ہوتی، ہاں ہم اللہ کی تقدیر سے راہِ فرار اختیار کر رہے ہیں، لیکن اللہ ہی کی تقدیر کی طرف۔ کیا تمہارے پاس اونٹ ہوں اور تم انہیں لے کر کسی ایسی وادی میں جاؤ جس کے دو کنارے ہوں، ایک سر سبز و شاداب اور دوسرا خشک؛ کیا یہ واقعہ نہیں کہ اگر تم سر سبز کنارے پر چراؤ گے تو وہ بھی اللہ کی تقدیر سے ہی ہو گا اور خشک کنارے پر چراؤ گے تو وہ بھی اللہ کی تقدیر سے ہی ہو گا؟ بیان کیا کہ پھر سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ آئے، وہ اپنی کسی ضرورت کی وجہ سے اس وقت موجود نہیں تھے۔ انہوں نے بتایا کہ میرے پاس مسئلہ سے متعلق ایک علم ہے۔ میں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم کسی سرزمین میں (وبا کے متعلق) سنو تو وہاں نہ جاؤ اور جب ایسی جگہ وبا آ جائے جہاں تم خود موجود ہو تو وہاں سے مت نکلو۔ راوی نے بیان کیا کہ اس پر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اللہ تعالیٰ کی حمد کی اور پھر واپس ہو گئے۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب السلام/حدیث: 1434]
تخریج الحدیث: «صحیح، _x000D_ أخرجه البخاري في: 76 كتاب الطب: 30 باب ما يذكر في الطاعون»
وضاحت: راوي حدیث:… حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کا بنو زہرہ خاندان سے تعلق تھا کنیت ابو محمد تھی ان آٹھ صحابہ میں سے ہیں جو اسلام کے قبول کرنے میں سبقت رکھتے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کے لیے جنت کی خوشخبری دی غزوہ بدر اور بیعت رضوان میںبھی شامل تھے۔ ایک دفعہ صبح کی نماز نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی اقتدا میں ادا کی۔ بڑے سخی اور صدقہ کرنے والے تھے۔ لمبے قد کے خوبصورت چہرے، نرم جلد والے، سرخی مائل سفید رنگ کے تھے۔ متعدد احادیث کے راوی ہیں۔ ۳۱ ہجری کو یا بقول بعض ۳۲ ہجری کو وفات پائی اور جنت البقیع میں دفن ہوئے۔

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں