اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
753. باب الطاعون والطيرة والكهانة وغيرها
باب: طاعون، بری فال اور کہانت کا بیان
حدیث نمبر: 1433
1433 صحيح حديث أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الطَّاعُونُ رِجْسٌ، أُرْسِلَ عَلَى ظَائِفَةٍ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ، أَوْ عَلَى مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ، فَإِذَا سَمِعْتُمْ بِهِ بِأَرْضٍ فَلاَ تَقْدَمُوا عَلَيْهِ وَإِذَا وَقَعَ بِأَرْضٍ وَأَنْتُمْ بِهَا فَلاَ تَخْرُجُوا فِرَارًا مِنْهُ (وَفِي رِوَايَةٍ) لاَ يُخْرِجُكُمْ إِلاَّ فِرَارًا مِنْهُ
سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”طاعون ایک عذاب ہے جو پہلے بنی اسرائیل کے ایک گروہ پر بھیجا گیا تھا یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا کہ ایک گزشتہ امت پر بھیجا گیا تھا۔ اس لیے جب کسی جگہ کے متعلق تم سنو (کہ وہاں طاعون پھیلا ہوا ہے) تو وہاں نہ جاؤ، لیکن اگر کسی ایسی جگہ یہ وبا پھیل جائے جہاں تم پہلے سے موجود ہو تو وہاں سے مت نکلو۔“ اور ایک روایت میں ہے، یعنی بھاگنے کے سوا اور کوئی غرض نہ ہو تو: ”مت نکلو۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب السلام/حدیث: 1433]
تخریج الحدیث: «صحیح، _x000D_ أخرجه البخاري في: 60 كتاب الأنبياء: 54 باب حدثنا أبو اليمان»
وضاحت: معلوم ہوا کہ تجارت، جہاد یا دوسری اغراض (سوائے فرارکے) کے لیے طاعون زدہ مقامات سے نکلنا جائز ہے۔ حضرت عمر شام کو جا رہے تھے۔ معلوم ہوا کہ وہاں طاعون ہے، واپس لوٹ آئے۔ لوگوں نے کہا کہ آپ اللہ کی تقدیر سے بھاگتے ہیں؟ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے جواب دیاکہ ہم اللہ کی تقدیر سے اللہ کی تقدیر ہی کی طرف بھاگ رہے ہیں۔ (راز)
الحكم على الحديث:
«صحیح»
Al-Lulu wal-Marjan Hadith 1433 in Urdu